Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2428

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللّٰهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَاٰى الْهِلَالَ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ أَهِلَّهٗ عَلَيْنَا بِالأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللّٰهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

عن طلحة بن عبيد الله أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا راى الهلال قال: «اللهم أهله علينا بالأمن والإيمان والسلامة والإسلام ربي وربك الله» . رواه الترمذي. وقال: هذا حديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

ر وایت ہے حضرت طلحہ ابن عبید اللّٰه سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب چاند دیکھتے ۱؎تو کہتے اے اللّٰه اسے ہم پر امن و امان،سلامتی اورا سلام کا چاند بنا کر چمکا ۲؎اے چاند میرا اور تیرا رب اللّٰہ ہے ۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎عربی میں پہلی دوسری تیسری رات کے چاند کو ہلال کہتے ہیں،پھر قمر یعنی جب سرکار مہینہ کا چاند پہلی بار دیکھتے تو یہ دعا مانگتے۔
۲
؎اس طرح کہ یہ چاند ہمارے لیے تیری یہ نعمتیں لایا ہو اور اس مہینہ میں ہمیں تیری یہ نعمتیں ملیں۔خیال رہے کہ اوقات راحات و آفات کا ظرف تو ہیں مگر کبھی سبب بھی ہوتے ہیں جیسے گرمی اور سردی کا سبب وقت ہے،نمازوں کے وجوب کا سبب وقت ہے،ایسے ہی کبھی روحانی حالات کا سبب بھی وقت بن جاتے ہیں لہذا یہ دعا اپنے ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔
۳
؎اس میں مشرکین کی تردید ہے جو چاند سورج کو معبود جان کر ان کی پوجا کرتے تھے،خطاب چاند سے ہے سنانا انسان کو ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2428