Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2449

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ: أَنَّهٗ جَاءَهٗ مُكَاتَبٌ فَقَالَ: إِنِّي عَجَزْتُ عَنْ كتابي فَأَعِنِّي قَالَ: أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلٍ كَبِيرٍ دَيْنًا أَدَّاهُ اللّٰه عَنْكَ. قُلْ: «اَللّٰهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ جَابِرٍ: «إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكِلَابِ» فِي بَابِ «تَغْطِيَةِ الْأَوَانِي» إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالٰى

وعن علي: أنه جاءه مكاتب فقال: إني عجزت عن كتابي فأعني قال: ألا أعلمك كلمات علمنيهن رسول الله صلى الله عليه وسلم لو كان عليك مثل جبل كبير دينا أداه الله عنك. قل: «اللهم اكفني بحلالك عن حرامك وأغنني بفضلك عمن سواك» . رواه الترمذي والبيهقي في الدعوات الكبير وسنذكر حديث جابر: «إذا سمعتم نباح الكلاب» في باب «تغطية الأواني» إن شاء الله تعالى

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب آیا بولا میں اپنی ادائے کتابت سے عاجز آگیا ہوں میری کچھ مدد فرمایئے ۱؎فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سکھائے تھے اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللّٰه تجھ سے ادا کرادے ۲؎یہ پڑھا کرو ۳؎خدایا مجھے اپنے حلال کے ذریعہ اپنے حرام سے تو کافی ہوجا ۴؎اورمجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے ۵؎(ترمذی،بیہقی دعوات کبیر)۶؎اور ہم حضرت جابر کی یہ حدیث کہ جب تم کتوں کا رونا سنو،الخ برتن ڈھکنے کے باب میںان شاءاللّٰهذکر کریں گے ۷؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنے میرے مولا نے کچھ مال پر میری آزادی موقوف رکھی ہے جسے ادا کرکے میں آزاد ہوں اور میرے پاس وہ مال نہ ہے اور نہ اس کے حاصل کرنے پر قدرت ہے،براہ کرم مال یا دعا سے میری مدد فرمائیں۔ معلوم ہوا کہ حضرت علی بفضل اللّٰه علی مشکل کشا دافع بلا ہیں،ان سے مصیبت میں مدد لینا شرک نہیں بلکہ سنت بزرگاں ہے۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ جناب علی نے دانستہ طور پر اس کی مالی مدد نہ کی کہ اس سے اس کا کام تو چل جاتا مگر اسے غنا میسر نہ ہوتا،آپ نے اسے وہ دعا بتائی جس سے وہ ہمیشہ کے لیے لوگوں سے غنی ہوگیا وقتی حاجت روائی سے سائل کو غنی بنا دینا بہتر ہے۔
۳
؎ہر نماز کے بعد ایک بار۔غالب یہ ہے کہ لفظقلحضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے سنا تھا اور ہوسکتا ہے کہ آپ کا خود اپنا قول ہو۔(مرقات)مشائخ کو ہمیشہ حسب ضرورت اوراد وظیفہ ایجاد کرنے کا حق ہے جیسے اطباء کو معجونیں دوائیں ایجاد کرنے کا حق ہے اور منقولہ دعاؤں کی اجازت دینے کا بھی اختیارہے۔
۴
؎یعنی حلال روزی بھی اتنی دے کہ مجھے حرام کی طرف توجہ نہ ہو اور میرے دل میں حرص بھی نہ پیدا ہونے دے تاکہ میں حرام سے بچا رہوں خلاصہ یہ ہے کہ کفایت وہ قناعت دونوں نصیب کر۔
۵
؎کہ دنیا والوں کے پاس حاجت لے کر مجھے نہ جانا پڑے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے بے پرواہی تو سخت محرومی بلکہ کفر ہے، شیطان نبوت سے بے پرواہ ہوکر مارا گیا۔
۶
؎اسے حاکم نے بھی روایت کیا ،یہ دعا بہت مجرب ہے فقیر کا اس پر عمل ہے اور اس کا بہت فائدہ فقیر آزمارہا ہے۔۷؎یعنے مصابیح میں وہ حدیث یہاں تھی مگر میں نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے اس باب میں ذکر نہ کیا۔ان شاءاللّٰهاس کی وجہ مناسبت وہاں ہی بیان کی جائے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2449