Main Icon

باب:حرام عورتوں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3160

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا". مُتفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا يجمع بين المرأة وعمتها، ولا بين المرأة وخالتها". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ عورت اور نہ اس کی پھوپھی کو جمع کیا جائے ۱؎اور نہ عورت اور اس کی خالہ کو ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ایسی عورتوں کو نہ تو نکاح میں جمع کرو، نہ صحبت میں،لہذا پھوپھی،بھتیجی وغیرہ بیک وقت ایک شخص کے نکاح میں نہیں رہ سکتیں،اور اگر یہ دونوں ایک شخص کی لونڈیاں ہوں، تو مولیٰ ان دونوں سے صحبت نہیں کرسکتا۔
۲
؎حرمت جمع کے لیے قاعدہ یہ ہے کہ ایسی دو عورتوں کو نکاح میں جمع کرنا حرام ہے کہ ان میں سے جو بھی مرد فرض کی جائے تو دوسری اس پر حرام ہو دیکھو خالہ بھانجی ،اگر خالہ مرد ہوتی تو ماموں ہوتی بھانجی اس پر حرام ہوتی،اگر بھانجی مرد ہوتی تو بھانجہ ہوتی خالہ اس پر حرام ہوتی لہذا ماں اور سوتیلی بیٹی کو نکاح میں جمع کرسکتے ہیں اگر بیٹی لڑکا ہوتی تو یہ سوتیلی ماں اس پر حرام ہوتی لیکن اگر ماں مرد ہوتی تو اس پر یہ لڑکی حرام نہ ہوتی لہذا حرمت ایک طرف سے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3160