Main Icon

باب:حرام عورتوں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3175

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ الْغَنَوِيِّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ، فَبَسَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ حَتَّى قَعَدَتْ عَلَيْهِ، فَلَمَّا ذَهَبَتْ قِيلَ: هَذِهِ أَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن أبي الطفيل الغنوي قال: كنت جالسا مع النبي صلى الله عليه وسلم إذ أقبلت امرأة، فبسط النبي صلى الله عليه وسلم رداءه حتى قعدت عليه، فلما ذهبت قيل: هذه أرضعت النبي صلى الله عليه وسلم . رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو طفیل غنوی سے ۱؎فرماتے ہیں میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بی بی صاحبہ آئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر بچھادی حتی کہ وہ اس پر بیٹھ گئیں ۲؎توپھر جب وہ چلی گئیں تو کہا گیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا ہے ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عامر ابن واثلہ ہے، لیثی، کتانی ہیں،کنیت ابوطفیل آٹھ سال حضور علیہ السلام کی خدمت میں رہے ۱۰۲ھ؁ ∞ میں مکہ معظمہ میں انتقال فرمایا،روئے زمین پر آپ ہی آخری صحابی ہیں جن کی وفات پر صحابیت ختم ہوئی(مرقات)حضرت علی کے ساتھ ان کی تمام جنگوں میں رہے۔
۲
؎حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ دونوں عمل اظہار احترام و اظہار مسرت کے لیے تھے۔معلوم ہوا کہ قیام تعظیمی جائز ہے اور انسان خواہ کتنا ہی عظمت والا ہو مگر اپنے مربی کا احترام کرے۔دیکھو یہ وہ آستانہ ہے جہاں جبریل امین خادمانہ شان سے حاضری دیتے ہیں مگر ان بی بی صاحبہ کے لیے چادر بچھائی گئی۔اس میں ہم لوگوں کو تعلیم ہے کہ جب دودھ پلانے والی دائی کا یہ ادب و احترام ہے تو سگی ماں کا ادب و احترام کیسا چاہیے۔
۳
؎یہ واقعہ خاص جنگ حنین کے دن کا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس جنگ سے فارغ ہوئے تھے جماعت صحابہ میں تشریف فرما تھے کہ بی بی حلیمہ سعدیہ رضی اتعالٰی عنہا تشریف لائیں،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے کھڑے ہوگئے اور جو چادر شریف اوڑھے ہوئے تھے ان کے لیے بچھادی جب تک آپ تشریف فرما رہیں کسی اور سے کلام نہ فرمایا ان ہی کی طرف متوجہ رہے جب آپ واپس ہوئیں تو بہت ہدایا تحفے عطا فرمائے اور انہیں کچھ دور مشایعت کے طور پر پہنچانے تشریف لے گئے پھر خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یا کسی اور صحابی نے حاضرین سے فرمایا کہ یہ حضور کی دائی جناب حلیمہ ہیں جنہوں نے حضور کو دودھ پلایا ہے یہ پورا واقعہ مواہب الدنیہ میں مطالعہ فرمایئے کچھ مرقات نے بھی یہاں ہی بیان فرمایا آج کے نوجوان یہ حدیثیں پڑھیں اور عبرت حاصل کریں کہ ہم لوگ سگی ماں کا بھی ادب نہیں کرتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3175