Main Icon

باب:حرام عورتوں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3168

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ، فَكَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ فَقَالَت: إِنَّه أَخي فَقَالَ: "انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ؟ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنها: أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها وعندها رجل، فكأنه كره ذلك فقالت: إنه أخي فقال: "انظرن من إخوانكن؟ فإنما الرضاعة من المجاعة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے حالانکہ ان کے پاس ایک شخص تھا شاید آپ کو یہ ناپسند آیا ۱؎تو حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ یہ میرے بھائی ہیں فرمایا غور کرلو کہ تمہارے بھائی کون ہیں۔شیر خوارگی بھوک کے زمانہ سے ہوتی ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ یہ شخص درحقیقت جناب ام المومنین کا رضاعی بھائی نہ تھا حضرت ام المومنین غلطی سے اس کو اپنا دودھ کا بھائی سمجھے ہوئے تھیں،اور آپ نے اس کو گھر میں آنے کی اجازت دے دی تھی۔
۲
؎یعنی اگر بڑا بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے تو اس سے رضاعت کے احکام ثابت نہ ہوں گے جب بچہ اتنا چھوٹا ہو کہ عورت کا دودھ اس کی بھوک دفع کردے اور وہ اس دودھ پر ہی گزارہ کرسکے تب دودھ پینا شرعًا معتبر ہے اور وہ عمر دو یا ڈھائی سال کی ہے چونکہ اس شخص نے اس عمر کے بعد دودھ پیا ہے اس لیے یہ تمہارا رضاعی بھائی نہیں۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ ازواج مطہرات احترام میں مسلمانوں کی مائیں ہیں نہ کہ احکام میں لہذا ان پر پردہ فرض ہے ان کی اولاد سے امت کا نکاح درست ہے ان کو امت کی میراث نہ ملے گی دوسرے یہ کہ ڈھائی برس کے بعد دودھ پینا حرمت رضاعت ثابت نہیں کرتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3168