Main Icon

باب:حرام عورتوں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3181

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حُرِّمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ، ثُمَّ قَرَأَ: حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ الآية .رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

عن ابن عباس قال: حرم من النسب سبع ومن الصهر سبع، ثم قرأ: حرمت عليكم أمهاتكم الآية .رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نسب سے سات عورتیں حرام ہیں ۱؎اور سسرالی رشتہ سے سات پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں ۲؎الایہ(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎وہ سات عورتیں یہ ہیں ،ماں،بیٹی،بہن،پھوپھی،خالہ،بھتیجی،بھانجی۔
۲
؎خیال رہے کہ نکاح کی وجہ سے چند عورتیں دائمی حرام ہوجاتی ہیں،اپنی ساس،بیٹے کی بیوی،پوتے کی بیوی،دادا کی بیوی، مدخول بہابیوی کی بیٹی اور عارضی طور پر چند عورتیں حرام ہوتی ہیں،بیوی کی بہن،اس کی پھوپھی اس کی خالہ جس آیت سے حضرت ابن عباس نے استدلال کیا ہے یعنی"وَلَا تَنۡکِحُوۡا مَا نَکَحَ"۔اس میں نہ تو بیوی کی خالہ اور پھوپھی کا ذکر ہے نہ سسر کی بیوی کا، لہذا اس آیت سے استدلال کچھ کمزور ہے یا کہو کہ اکثر کا ذکر ہے نہ کہ کل کا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3181