Main Icon

باب:حرام عورتوں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3171

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوِ الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا، أَوِ الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا، أَوِ الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا، لَا تُنْكَحُ الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى وَلَا الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَالنَّسَائِيُّ، وَرِوَايَتُهُ إِلَى قَوْلِهِ: "بِنْتِ أُخْتِهَا".

عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن تنكح المرأة على عمتها، أو العمة على بنت أخيها، أو المرأة على خالتها، أو الخالة على بنت أختها، لا تنكح الصغرى على الكبرى ولا الكبرى على الصغرى. رواه الترمذي وأبو داود والدارمي والنسائي، وروايته إلى قوله: "بنت أختها".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ عورت سے نکاح کیا جائے اس کی پھوپھی پر یا پوپھی سے اس کی بھتیجی پر ۱؎یا عورت سے اس کی خالہ پر یا خالہ سے اس کی بھیتجی پر۱؎نہ چھوٹی سے بڑی پر نکاح کیا جائے نہ بڑی سے چھوٹی پر ۲؎(ترمذی، ابوداؤد، دارمی،نسائی)اور نسائی کی روایت میں بھانجی تک ہے ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎اس جگہ ان عورتوں کا ذکر ہے جنہیں نکاح یا صحبت میں جمع نہیں کرسکتے قرآن کریم نے فرمایا:"وَ اَنۡ تَجْمَعُوۡا بَیۡنَ الۡاُخْتَیۡنِ"دو بہنوں کو جمع کرنا حرام ہے،مگر حدیث پاک میں کچھ اور تفصیل بیان ہوئی اور فقہاء نے اس کے لیے قاعدہ کلیہ بیان فرمادیا کہ جن دو عورتوں میں حرمت دو طرفہ ہو کہ جسے مرد مانا جائے اس پر دوسری عورت حرام ہو ان کا جمع کرنا حرام ہے یہاں پھوپھی اور بھتیجی سے تینوں قسم کی پوپھیاں و بھتیجیاں مراد ہیں سگی ہوں یا علاتی یا اخیافی یعنی باپ کی سگی بہن علاتی بہن اخیافی بہن یوں ہی سگے بھائی کی بیٹی علاتی بھائی کی اور اخیافی بھائی کی ان سب کا اجتماع حرام ہے۔
۲
؎چھوٹی بڑی سے مراد رشتہ کی چھوٹی بڑی ہے خالہ و پھوپھی بڑی ہیں اگرچہ عمر میں چھوٹی ہوں یہ جملہ پچھلے جملہ کی تشریح ہے۔
۳
؎اس قسم کی دو عورتوں کے جمع کرنے کی حرمت کی وجہ یہ ہے کہ یہ عورتیں ذی رحم محرم ہوتی ہیں اور ان کا سوکن بننا جھگڑے فساد کا ذریعہ ہے تویہ اجتماع قطعیت رحم کا سبب ہے۔خیال رہے کہ ایسی دوعورتوں کا حقیقی نکاح میں جمع کرنا بھی حرام اور حکمی نکاح میں جمع کرنا بھی حرام لہذا پھوپھی کو طلاق دینے کے بعد جب تک پھوپھی عدت میں ہے تب تک اس کی بھتیجی سے نکاح نہیں کرسکتے کہ عدت حکمی نکاح ہے ہاں پھوپھی کے انتقال کے بعد فورًا ہی اس کی بھتیجی سے نکاح کرسکتے ہیں کہ خاوند پر عدت نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3171