Main Icon

باب:حرام عورتوں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3167

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ: عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عائشة قالت: كان فيما أنزل من القرآن: عشر رضعات معلومات يحرمن، ثم نسخن بخمس معلومات، فتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي فيما يقرأ من القرآن. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نازل شدہ قرآنی آیات میں یہ آیت بھی تھی کہ دس معلوم چسکیاں حرام کرتی ہیں پھر پانچ معلوم چسکیوں سے منسوخ کی گئیں ۱؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی حالانکہ وہ قرآن سے پڑھی جاتی تھیں ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی پہلے دس گھونٹ والی آیت نازل ہوئی پھر بہت عرصہ کے بعد دس گھونٹ والی آیت تلاوت و حکم میں پانچ گھونٹ والی آیت سے منسوخ ا ور یہ پانچ گھونٹ والی آیت اتنے عرصہ کے بعد منسوخ ہوئی تلاوتًا و حکمًا کہ حضور انور صلی اتعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی وفات پانے تک بعض دیہات اور دور دراز کے علاقہ والوں کو اس کے نسخ کی خبر نہ ہوئی اور وہ اس بے خبری میں بعد وفات بھی اس کی تلاوت کرتے رہے پھر خبر ہونے پر اس کی تلاوت بند کی۔حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ حضور کی وفات کے بعد بھی یہ آیت قرآن کریم میں تھی بعد میں صحابہ کرام نے نکال دی ورنہ اعتراض ہوگا کہ جناب علی و دیگر اہل بیت اطہار قران بگڑتا یا کم ہوتا ہوا دیکھ کر خاموش کیوں رہے انہوں نے قرآن بگڑنے کیوں دیا ؟ خیال رہے کہ یہ حدیث خبر واحد ہے اس سے قرآنی مطلق آیات کو مقید نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے لہذا یہ حدیث امام شافعی کی دلیل نہیں بن سکتی۔٢؎یعنی بحکم قرآنی پہلے حکم یہ تھا کہ اگر بچہ دس گھونٹ دودھ کسی عورت کا پیئے تب دودھ کی حرمت آئے گی پھر دس کاحکم منسوخ ہوکر پانچ کا حکم رہا یہ حدیث ہمارے خلاف ہے اور امام شافعی کی دلیل ہے کہ ان کے ہاں پانچ گھونٹ سے حرمت آتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3167