Main Icon

باب : امید اور حرص کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5268

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: خَطَّ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطًّا فِي الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْهُ، وَخَطَّ خُطُطًا صِغَارًا إِلَى هَذَا الَّذِي فِي الْوَسَطِ مِنْ جَانِبِهِ الَّذِي فِي الْوَسَطِ، فَقَالَ: "هَذَا الإِنْسَانُ، وَهَذَا أَجَلُهُ مُحِيطٌ بِهِ، وَهَذَا الَّذِي هُوَ خَارِجٌ أَمَلُهُ، وَهَذِهِ الْخُطُطُ الصِّغَارُ الأَعْرَاضُ، فَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَسَهُ هَذَا، وَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَسَهُ هَذَا". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

عن عبد الله قال: خط النبي -صلى الله عليه وسلم- خطا مربعا، وخط خطا في الوسط خارجا منه، وخط خططا صغارا إلى هذا الذي في الوسط من جانبه الذي في الوسط، فقال: "هذا الإنسان، وهذا أجله محيط به، وهذا الذي هو خارج أمله، وهذه الخطط الصغار الأعراض، فإن أخطأه هذا نهسه هذا، وإن أخطأه هذا نهسه هذا". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چوکور خط کھینچی اور ایک خط بیچ میں کھینچا اس سے نکلا ہوا اور چند خطوط چھوٹے کھینچے اس خط کی طرف جو بیچ میں تھا ۲؎اس کی طرف سے جس کے بیچ میں یہ تھا ۳؎پھر فرمایا یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے اسے گھیرے ہوئے اور یہ جو باہر نکالا ہوا ہے یہ اس کی امید ہے اور یہ چھوٹے خط آفتیں ہیں۴؎تو اگر انسان اس آفت سے بچا تو اس نے ڈس لیا اور اگر اس سے بچا تو اس نے کاٹ لیا ۵؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضرت عبداابن مسعود سے روایت ہے،جب عبداللہ مطلق بولتے ہیں تو اس سے آپ ہی مراد ہوتے ہیں۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ حضور انور نے یہ خط اپنے دستِ اقدس سے کھینچے اس کی شکل یہ تھی مثالی خط میں غور کرو(انظر فی الکتاب)
کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے اہم مسائل اشاروں میں سمجھادیئے
؎جوفلسفیوں سےحل نہ ہوئے اورنکتہ وروں سےحل نہ ہوئے وہ راز اک کملی والے نے سمجھادیےچند اشاروں میں
۳
؎یعنی بیچ والی لکیر میں سے دو طرفہ چھوٹی چھوٹی لکیریں چمٹی ہوئی تھیں جو مربع خط کی طرف تھیں جیسا کہ ہمارے کھینچے ہوئے خط سے ظاہر ہورہا ہے۔
۴
؎یعنی اس شکل میں چار چیزیں ہیں،بیچ والا جو مربع خط سے گھرا ہوا ہے اور جسے چھوٹی لکیریں چمٹی ہوئی ہیں یہ تو انسان ہے اور اس کے اردگرد جو کھوٹھا خط اس کی موت ہے جو ہر طرف سے اسے گھیرے ہوئے ہے اور آس پاس کی چمٹی ہوئی لکیریں یہ دنیاوی آفتیں،بلائیں ہیں،بیماریاں، آپس کی دشمنیاں،دنیاوی جھگڑے اور فکریں جو دو طرفہ چمٹی ہوئی ہیں اور اس مربع خط سے اوپر نکلا ہوا حصہ یہ انسان کی دنیاوی امیدیں ہیں یعنی انسان اس قدر آفتوں اور چوطرفہ سے موت میں گھرے ہوئے ہونے کے باوجود اتنی دراز امیدیں رکھتا ہے جو اس موت سے بھی آگے نکلی ہوئی ہیں۔شعر
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
۵
؎یعنی انسان عمر میں کبھی بھی آفتوں سے چھٹکارا نہیں پاتا،ایک آفت جاتی ہے تو دو آتی ہیں اور جب دو جاتی ہیں تو اور طرف سے تین چار آتی ہیں یہ آفتیں بلائیں یوں ہی آتی رہتی ہیں حتی کہ اسے موت آجاتی ہے،زیادہ امیدیں باندھنے والے کو موت کی تکلیف بہت ہوتی ہے نزع کی شدت،دنیا چھوٹنے پر حسرت،امیدیں پوری نہ ہونے کا غم لہذا یہ ہی بہتر ہے کہ لمبی امیدیں رکھی ہی نہ جائیں۔غافل مرکر دنیا او ر محبوب چیزوں سے چھوٹتا ہے مگرمؤمن کامل مر کر محبوب سے ملتا ہے،کافر کی موت کا دن چھوٹنے کا دن ہے،مؤمن کی موت کا دن ملنے کا دن ہے اس لیے مقبولوں کی موت عرس یعنی شادی کہا جاتا ہے۔قبر میں کامیاب ہونے پر فرشتے کہتے ہیںنم کنومۃ العروسسوجا دولہن کی طرح۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5268