Main Icon

باب : امید اور حرص کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5272

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَى امْرِئٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتَّى بَلَّغَهُ سِتِّينَ سَنَةً". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أعذر الله إلى امرئ أخر أجله حتى بلغه ستين سنة". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اس بندے کو معذور رکھتا ہے جس کی موت پیچھے کردی گئی حتی کہ اسے ساٹھ سال تک پہنچادیا ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس عبارت کے دو معنی ہیں:ایک یہاعذرکے معنی ہیں عذر دور کردیتا ہے یعنی باب افعال کا ہمزہ سلب کے لیے ہے تب مطلب یہ ہوگا کہ بچپن اور جوانی میں غفلت کا عذر سنا جاسکے گا مگر جو بڑھاپے میں اتعالٰی کی طرف رجوع نہ کرے اس کا عذر قبول نہ ہوگا کیونکہ بچپن میں جوانی کی امید تھی جوانی میں بڑھاپے کی اب بڑھاپے میں سوا موت کے اور کس چیز کا انتظار ہے،اگر اب بھی عبادت نہ کرے تو سزا کے قابل ہے اس کا کوئی بہانہ قابل سننے کے نہیں۔دوسرے یہ کہ اساعذرکے معنی ہیں معذور رکھتا ہے یعنی جو بوڑھا آدمی بڑھاپے کی وجہ سے زیادہ عبادت نہ کرسکے مگر جوانی میں بڑی عبادتیں کرتا رہا ہو تو اللہ تعالٰی اسے معذور قرار دے کر اس کے نامہ اعمال میں وہ ہی جوانی کی عبادت لکھتا ہے،ساٹھ سال پورا بڑھاپا ہے۔شعر
رسم است کہ مالکان تحریر آزاد کنند بندۂ پیر
اے بار خدائے عالم آرا برسعدی پیر خود بہ بخشا
بوڑھے نوکر کی پنشن ہوجاتی ہے وہ رؤف و رحیم رب بھی اپنے بوڑھے بندوں کی پنشن کردیتا ہے مگر پنشن اس کی ہوتی ہے جو جوانی میں خدمت کرتا رہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5272