Main Icon

باب : امید اور حرص کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5283

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا وَسُئِلَ أَيُّ شَيْءٍ الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ: طِيبُ الْكَسْبِ وَقِصَرُ الأَمَلِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن زيد بن الحسين قال: سمعت مالكا وسئل أي شيء الزهد في الدنيا؟ قال: طيب الكسب وقصر الأمل. رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زید ابن حسین سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے مالک سے سنا ان سے پوچھا گیا کہ دنیا میں بے رغبتی کیا چیز ہے فرمایا حلال کمائی ۲؎اور جھوٹی امیدیں ۳؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎آپ تبع تابعی ہیں صحابی یا تابعی نہیں،حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے خاص خدام سے ہیں،آپ کے حالات زندگی معلوم نہ ہوسکے۔
۲
؎حلال کمائی سے عبادات میں لذت،دل میں بیداری،آنکھوں میں تری،دعا میں قبولیت پیدا ہوتی ہے۔جو بندہ مقبول الدعاء بننا چاہے وہ اکل حلال اور صدق مقال یعنی غذا حلال اور سچی زبان رکھے،حلال کمائی وہ جو حلال ذریعوں سے آئے۔
۳
؎دنیاوی امیدیں کم رکھنے سے غفلت نہیں آتی انسان گناہ پر دلیر نہیں ہوتا توبہ میں جلدی کرتا ہے یہ بہت سی بیماریوں کا علاج ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5283