Main Icon

حضرات صحابہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6007

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيْفِهِ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي سعيد الخدري قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: « لا تسبوا أصحابي فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه». (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میرے صحابہ کو برا نہ کہو کیونکہ اگر تم میں کا کوئی احد(پہاڑ)بھر سونا خیرات کرے تو ان کے ایک کے نہ مد کو پہنچے نہ آدھے کو ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎چار مد کا ایک صاع ہوتا ہے اور ایک صاع ساڑھے چار سیر کا تو مد ایک سیر آدھ پاؤ ہوا یعنی میرا صحابی قریبًا سوا سیر جو خیرات کرے اور ان کے علاوہ کوئی مسلمان خواہ غوث و قطب ہو یا عام مسلمان پہاڑ بھر سونا خیرات کرے تو اس کا سونا قرب الٰہی اور قبولیت میں صحابی کے سوا سیر کو نہیں پہنچ سکتا،یہ ہی حال روزہ نماز اور ساری عبادات کا ہے۔جب مسجد نبوی کی نماز دوسری جگہ کی نمازوں سے پچاس ہزار گناہ ہے تو جنہوں نے حضورصلی اللہ علیہ و سلم کا قرب اور دیدار پایا ان کا کیا پوچھنا اور ان کی عبادات کا کیا کہنا یہاں قرب الٰہی کا ذکر ہے۔جس حدیث میں ہے کہ آخر زمانہ کے فلاں جہاد کے مجاہدین کی ایک جماعت کو فی کس پچاس صحابہ کے برابر ثواب ملے گا وہاں ثواب کا ذکر ہے قرب اور درجہ کا ذکر نہیں،درجہ اور ثواب میں بڑا فرق ہے۔اگر کسی سپاہی کو بادشاہ انعام دے دے تو وہ وزیر اعظم کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ کا ذکر ہمیشہ خیر سے ہی کرنا چاہیے کسی صحابی کو ہلکے لفظ سے یاد نہ کرو۔یہ حضرات وہ ہیں جنہیں رب نے اپنے محبوب کی صحبت کے لیے چنا،مہربان باپ اپنے بیٹے کو بروں کی صحبت میں نہیں رہنے دیتا تو مہربان رب نے اپنے نبی کو بروں کی صحبت میں رہنا کیسے پسند فرمایا؎رسول اللہ طیب ان کے سب ساتھی بھی طاہر ہیں چنیدہ بہرپا کاں حضرت فاروق اعظم ہیں

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6007