Main Icon

حضرات صحابہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6018

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"سَأَلْتُ رَبِّي عَنِ اخْتِلَافِ أَصْحَابِي مِنْ بَعْدِي فَأَوْحٰى اِلَيَّ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ أَصْحَابَكَ عِنْدِي بِمَنْزِلَةِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ بَعْضُهَا أَقْوٰى مِنْ بَعْضٍ وَلِكُلٍّ نُورٌ فَمَنْ أَخَذَ بِشَيْءٍ مِمَّا هُمْ عَلَيْهِ مِنِ اخْتِلَافِهِمْ فَهُوَ عِنْدِي عَلٰى هُدًى " قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ» . رَوَاهُ رَزِينٌ

وعن عمر بن الخطاب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:"سألت ربي عن اختلاف أصحابي من بعدي فأوحى الي: يا محمد إن أصحابك عندي بمنزلة النجوم في السماء بعضها أقوى من بعض ولكل نور فمن أخذ بشيء مما هم عليه من اختلافهم فهو عندي على هدى " قال: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أصحابي كالنجوم فبأيهم اقتديتم اهتديتم» . رواه رزين

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میں نے اپنے رب سے اپنے صحابہ کے اختلاف کے متعلق سوال کیا جو میرے بعد ہوگا ۱؎تو مجھے وحی فرمائی کہ اے محمد تمہارے صحابہ میرے نزدیک آسمان کے تاروں کی طرح ہیں کہ ان کے بعض بعض سے قوی ہیں اور سب میں نور ہے تو جس نے ان کے اختلاف میں سے کچھ حصہ لیا جس پر وہ ہیں تو وہ میرے نزدیک ہدایت پر ہے ۲؎فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میرے صحابہ تاروں کی طرح ہیں تو تم ان میں سے جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے۳؎(رزین)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں اختلاف سے اجتہادی علمی و عملی اختلاف مراد ہے،اس میں غیبی خبر ہے کہ میرے صحابہ میں اختلاف ہوں گے۔خیال رہے کہ صحابہ کرام کی آپس کی جنگیں اختلاف کی بنا پرتھیں نہ کہ عداوت کی بنا پر جیسے حضرت سارہ اورجناب ہاجرہ کا اختلاف یا جیسے برادرانِ یوسف علیہ السلام کا حضرت یوسف علیہ السلام سے اختلاف،اس کا انجام بخیر ہوتا ہے ہم کسی کو برا نہ کہیں اس کے باوجود وہ ایک دوسرے پر رحیم و کریم تھے،رب فرماتاہے"رُحَمَآءُ بَیۡنَهُمْ"۔اس فرمان عالی سے معلوم ہورہا ہے کہ یہاں اختلاف سےمراد فقہی مسائل میں اختلاف ہے۔جو شخص کسی صحابی کے فتویٰ پر عمل کرے گا نجات پاجاوے گا،آئمہ دین جیسے امام اعظم اور امام شافعی وغیرہم صحابہ ہی کے مقلد ہیں،امام اعظم حضرت عبداللہ ابن مسعود کے اور امام شافعی حضرت عبداللہ ابن عباس کے اکثر مسائل میں تابع ہیں دونوں ہدایت پر ہیں۔
۳
؎سبحان الله!کیسی نفیس تشبیہ ہے حضور نے اپنے صحابہ کو ہدایت کے تارے فرمایا اور دوسری حدیث میں اپنے اہلِ بیت کو کشتی نوح فرمایا،سمندر کا مسافر کشتی کا بھی حاجت مند ہوتا ہے اور تاروں کی رہبری کا بھی کہ جہاز ستاروں کی رہنمائی پر ہی سمندر میں چلتے ہیں،اسی طرح امتِ مسلمہ اپنی ایمانی زندگی میں اہلِ بیت اطہار کے بھی محتاج ہیں اورصحابہ کبار کی بھی حاجت مند۔امت کے لیے صحابہ کی اقتداء میں ہی اہتداء یعنی ہدایت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6018