Main Icon

حضرات صحابہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6012

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْرِمُوا أَصْحَابِي فَإِنَّهُمْ خِيَارُكُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَظْهَرُ الْكَذِبُ حَتّٰى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَحْلِفُ وَلَا يُسْتَحْلَفُ وَيَشْهَدُ وَلَا يُسْتَشْهَدُ أَلَا مَنْ سَرَّهٗ بُحْبُوحَةُ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْفَذِّ وَهُوَ مِنَ الْاِثْنَيْنِ أَبْعَدُ، وَلَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمْ وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهٗ وَسَآءَتْهُ سَيِّئَتُهٗ فَهُوَ مُؤْمِنٌ»

عن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أكرموا أصحابي فإنهم خياركم ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يظهر الكذب حتى إن الرجل ليحلف ولا يستحلف ويشهد ولا يستشهد ألا من سره بحبوحة الجنة فليلزم الجماعة فإن الشيطان مع الفذ وهو من الاثنين أبعد، ولا يخلون رجل بامرأة فإن الشيطان ثالثهم ومن سرته حسنته وساءته سيئته فهو مؤمن»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میرے صحابہ کی عزت کرو کیونکہ وہ تمہارے بہترین ہیں ۱؎پھر وہ جو ان کے قریب ہیں پھروہ جو ان کے قریب ہیں ۲؎پھر جھوٹ ظاہر ہوگا حتی کہ آدمی قسم کھائے گا حالانکہ قسم لیا نہ جاوے گا اور گواہی دے گا حالانکہ گواہی لیا نہ جاوے گا آگاہ رہو کہ جو جنت کا وسط چاہے وہ جماعت کو مضبوط پکڑے۳؎کیونکہ شیطان اکیلے کے ساتھ ہوتا ہے ۴؎اور وہ دو سے دور رہتا ہے ۵؎کوئی شخص کسی اجنبی عورت سے خلوت نہ کرے کیونکہ شیطان ان کا تیسرا ہوتا ہے ۶؎اور جس کو اس کی نیکی خوش کرے اور اس کی برائی غمگین کرے تو وہ مؤمن ہے ۷؎

شرح حدیث

۱∞؎جن صحابہ نے حضور انور کی صحبت پائی،حضور سے علم و عمل حاصل کیے،حضورکی تربیت پائی وہ تو انسان کیا فرشتوں سے بڑھ گئے مگر جن کی صرف ایک نظر جمال جہاں آرا پر پڑ گئی انہیں ایمان شہودی حاصل ہوگیا۔حضور کے جمال پر ایک نظر وہ کام کرتی ہے جو عمر بھر کے چلے خلوتیں عبادتیں نہیں کرسکتیں کوئی اس جیسا نہیں ہوسکتا۔(از اشعۃ اللمعات)
۲
؎یعنی تابعین و تبع تابعین بعد والوں سے افضل ہیں کہ ان میں اکثر عادل یا مستور الحال ہیں فاسق تھوڑے مگر ان کے بعدکے لوگ اس کے برعکس ہیں کہ ان میں فاسق زیادہ عادل کم ہیں بلکہ ان زمانوں کے فاسقوں میں جتنی حمیت دینی تھی بعد کے بعض عادلوں میں اتنی نہیں غیرت ایمان برابر گھٹ رہی ہے جیساکہ آگے ارشاد ہے،محمد ابن قاسم کا سندھ فتح کرنا حجاج ابن یوسف کی ایک غیرت اسلامی کی بنا پر ہوا۔
۳
؎یعنی جماعت صحابہ کے عقیدے اختیار کرے ان کے سے اعمال کرنے کی کوشش کرے،نیز عامۃ المؤمنین کی راہ چلے ہمیشہ عام مسلمانوں کی راہ چلے تا ابد بڑا گروہ اہل سنت والجماعت ہی کا رہے گا اسی لیے اس کے نام میں جماعت داخل ہے اہل سنت و الجماعت۔
۴
؎یعنی جو عقائد و اعمال میں مسلمانوں کی جماعت سے الگ رہا وہ شیطان کا ساتھی ہے دوزخی ہے۔
۵
؎شیطان انسان کا بھیڑیا ہے اور بھیڑیا بکریوں کے گلہ پر رحم کم کرتا ہے دور والی یا کنارے والی بکری کو جلد پھاڑتا ہے،یہ مضمونکتاب الاعتصاممیں گزر چکا۔
۶
؎عورت سے مراد اجنبی عورت ہے لہذا اپنی ذی رحم ماں بہن بیٹی ساری ذی رحم محرمہ یوں ہی اپنی بیوی اس حکم میں داخل نہیں بلکہ جوعورت صرف محرمہ تو ہو کہ اس سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو مگر ذی رحم نہ ہو جیسے ساس اس سے بھی خلوت بہتر نہیں جب کہ وہ جوان ہو۔(دیکھو شامی)خیال رہے کہ دودھ کے بھائی بہن دودھ کے چجا تائے سے پردہ فرض نہیں مگر خلوت ان سے بھی بہتر نہیں جب کہ دونوں جوان ہوں کیونکہ وہ اگرچہ محرم تو ہیں مگر ذی رحم نہیں۔
۷
؎یعنی علامت ایمان یہ ہے کہ آدمی کو اپنی برائیاں اپنے گناہ برے معلوم ہوں،ان پر وہ غم کرے اور اپنی نیکیاں اچھی معلوم ہوں ان پر خوشی کرے اس کا دل مفتی ہوتا ہے جو اسے برے بھلے کاموں کا فتوی دیتا رہتا ہے اللہ ایسا ایمان نصیب کرے۔ مصنف کو اس حدیث کا حوالہ نہیں ملا،یہ حدیث نسائی شریف کی ہے اس کی اسناد کے سارے راوی قوی ہیں سواء ابراہیم ابن حسن خثعمی کے اس سے مسلم،بخاری نے احادیث نہیں لیں مگر وہ بھی ثقہ ہیں لہذا حدیث صحیح ہے اور اس مضمون کی احادیث احمد ابن حبان،طبرانی،حاکم،بیہقی نے بھی روایت کیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6012