Main Icon

باب :التحیات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 906

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ فِي التَّشَهُّدِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرٰى عَلیٰ رُكْبَتِهِ الْيُسْرٰى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنٰى عَلیٰ رُكْبَتِهِ الْيُمْنٰى وَعَقَدَ ثَلَاثًا وَخَمْسِيْنَ وَأَشَارَ بِالسَّبَابَةِ

عن ابن عمر قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قعد في التشهد وضع يده اليسرى علی ركبته اليسرى ووضع يده اليمنى علی ركبته اليمنى وعقد ثلاثا وخمسين وأشار بالسبابة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جبالتحیاتمیں بیٹھتے تو اپنا بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھتے اور دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر ۱؎اور ترپن (۵۳)کا عقد باندھتے اور کلمے کی انگلی سے اشارہ کرتے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ ہتھیلیاں تو رانوں پر ہوتیں اور انگلیوں کے کنارہ گھٹنوں پر،ہاتھوں سے گھٹنے پکڑنا مراد نہیں کیونکہالتحیاتمیں تمام انگلیوں کا رخ کعبہ معظمہ کو چاہیے۔خیال رہے کہ نماز کی ہر نشست یوں ہی ہونی چاہیے خواہ سجدوں کے درمیان کا جلسہ ہو یاالتحیاتکا قعدہ،یہاںالتحیاتکا ذکر احترازی نہیں لہذا یہ حدیث دیگر احادیث کے خلاف نہیں۔
۲
؎یعنیالتحیاتمیں شہادت توحید کے وقت داہنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے کہ انگوٹھے کا کنارہ کلمہ کی انگلی کی جڑ میں لگاتے اور تین انگلیاں بند کر لیتے یہ ترپن کا عقد ہوا اور کلمہ کی انگلی اوپر اٹھاتےاِلَّااللهُپر گرادیتے،یہ تفصیل دوسری احادیث میں واردہے۔خیال رہے کہ اس اشارے کے متعلق مختلف روایتیں آئیں ہیں یہاں ترپن(۵۳)کاعقد مذکور ہے،بعض میں ہے کہ انگلیاں بندکرلیتے اور انگوٹھے و بیچ کی انگلی کا حلقہ بناتے اور کلمہ کی انگلی سے اشارہ کرتے۔معلوم ہوتا ہے کہ کبھی اس طرح کرتے اور کبھی اس طرح لہذا احادیث میں تعارض نہیں احناف کے ہاں حلقہ والی حدیث پر عمل ہے جو حضرت وائل ابن حجر سے مروی ہے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 906