Main Icon

باب :التحیات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 911

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرٰى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرٰى عَلیٰ فَخِذِهِ الْيُسْرٰى وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْيُمْنٰى عَلیٰ فَخِذِهِ الْيُمْنٰى وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً ثُمَّ رَفَعَ أَصْبَعَهٗ فَرَأَيْتُهٗ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ والدَارمِيْ

وعن وائل بن حجر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ثم جلس فافترش رجله اليسرى ووضع يده اليسرى علی فخذه اليسرى وحد مرفقه اليمنى علی فخذه اليمنى وقبض ثنتين وحلق حلقة ثم رفع أصبعه فرأيته يحركها يدعو بها. رواه أبو داود والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت وائل ابن حجر سے وہ رسول الله سے راوی ہیں فرماتے ہیں کہ پھر حضور بیٹھے ۱؎تو اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھا اور اپنی داہنی کہنی اپنی داہنی ران پر دراز کی ۲؎دو انگلیاں بند کیں اور حلقہ بنایا ۳؎پھر اپنی انگلی شریف اٹھائی میں نے آپ کو دیکھا کہ اسے ہلاتے تھے اس سے اشارہ کرتے تھے ۴؎(ابوداؤد، دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث ایک بڑی حدیث کا ٹکڑا ہے جس میں وائل ابن حجر فرماتے ہیں کہ میں ایک بار حضور صلی الله علیہ وسلم کے آستانہ شریف پر اس لیے حاضر ہوا کہ میں آپ کی نماز دیکھوں تو میں نے دیکھا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کھڑے ہوئے، قبلہ کو منہ کیا، تکبیر کہی، کانوں تک ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ آخر میں فرمایا پھر بیٹھے الخ۔
۲
؎یعنی اپنے ہاتھ ادھر ادھر پھیلائے نہیں، بلکہ ران کے مقابل رکھے یہ مطلب نہیں کہ کہنیاں ران پر بچھادیں۔
۳
؎یعنی بیچ والی انگلی کا انگوٹھے سے حلقہ بنایا جیسا کہ ہم لوگوں کا عمل ہے۔
۴
؎یہاں ہلانے سے مرا د انگلی کا اٹھانا اور گرانا ہے کیونکہ اس میں بھی انگلی کو حرکت ہوتی ہے لہذا یہ حدیث اگلی حدیث کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ آپ انگلی نہیں ہلاتے تھے یہ حدیث حنفیوں کے مخالف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 911