Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2834

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ: أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهٖ إِنْ كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيلًا، وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيْبٍ كيْلًا، أَوْ كَانَ -وَعِنْدَ مُسْلِمٌ: وَإِنْ كَانَ- زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهٗ بِكَيْلِ طَعَامٍ، نَهٰى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهٖ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ). وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: نَهٰى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، قَالَ: وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُؤُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بكَيْلٍ مُسمًّى إِنْ زَادَ فَلِي وَإِن نَقَصَ فَعَلَيَّ.

عن ابن عمر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المزابنة: أن يبيع ثمر حائطه إن كان نخلا بتمر كيلا، وإن كان كرما أن يبيعه بزبيب كيلا، أو كان -وعند مسلم: وإن كان- زرعا أن يبيعه بكيل طعام، نهى عن ذلك كله. (متفق عليه). وفي رواية لهما: نهى عن المزابنة، قال: والمزابنة: أن يباع ما في رؤوس النخل بتمر بكيل مسمى إن زاد فلي وإن نقص فعلي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ۱؎وہ یہ ہے کہ اگر کھجور ہو تو اپنے باغ کے پھل خشک کھجور کے عوض ناپ سے فروخت کرے اور اگر انگور کا کھیت ہو تو انگور کشمش کے عوض ناپ سے فروخت کرے ۲؎اور مسلم کے نزدیک یہ ہے ۳؎کہ اگر کھیت ہو تو تر دانہ خشک دانوں کے عوض ناپ سے بیچے ان سب سے منع فرمایا ۴؎(مسلم،بخاری)ان ہی دونوں میں ایک روایت یوں ہے کہ مزابنہ سے منع فرمایا اور فرمایا کہ مزابنہ یہ ہے کہ درخت میں لگی کھجوریں معین پیمانے چھوہاروں کے عوض بیچے کہ اگر زیادہ ہوں تو میری اور اگر کم ہو تو مجھ پہ ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎مزابنہزبنسے بنا بمعنی دفع کرنا،ختم کرنا،چونکہ اس بیع کو بعد میں ایک شخص جاری رکھنا چاہتا ہے دوسرا جسے نقصان نظر آئے فسخ کرنا چاہتا ہے اس لیے اسے مزابنہ کہتے ہیں،یعنی دفع کی جانے والی بیع۔
۲
؎خلاصہ یہ ہے کہ خشک پھل ہم جنس تر پھلوں کے عوض جو درخت پر لگے ہیں فروخت کرنا کہ خشک پھل کا وزن تو معلوم ہوا مگر درخت پر لگے ہوئے تر پھلوں کا وزن معلوم نہ ہو صرف اندازہ ہو یہ حرام ہے کہ اس میں سود کا احتمال قوی ہے،ہاں اگر جانبین کے پھل مختلف الجنس ہوں تو مضائقہ نہیں۔
۳
؎یعنی بخاری و مسلم کی روایتوں میںاَوْاوراِنْکا فرق ہے کہ بخاری میںاَو کاناور مسلم میںاِن کان۔
۴
؎طعامسے مراد گندم ہے یا تمام دانے یعنی کھیت میں درختوں میں لگے ہوئے گندم کے خوشے،دوسری خشک گندم کی عوض فروخت کرنا منع ہے کہ خشک گندم کا وزن تو معلوم ہے مگر خوشے کی گندم کا وزن معلوم نہیں اور مال ربوی ہے جس میں زیادتی کمی سود ہے لہذا اس بیع سے بچے۔
۵
؎یعنی خریدار کہے کہ تیرے باغ میں لگی ہوئی کھجوریں جتنی بھی ہوں میری ہیں،کم ہوں تو مجھے نقصان ہے زیادہ ہوں مجھے نفع،یہ حرام ہے کہ اس میں سود ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2834