Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2858

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعنهُ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ.رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع فضل الماء.رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے منع فرمایا بچے پانی کی فروخت سے ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر کسی کے پاس اپنی ضرورت سے بچا ہوا پانی ہو تو وہ کسی پیاسے آدمی یا پیاسے جانور کو پی لینے دے،اس کی قیمت نہ لے کہ یہ خلاف مروت ہے لیکن اگر دوسرا شخص اپنے کھیت کو پانی بچا ہوا دینا چاہتا ہے تو اس کی بیع بالکل درست ہے۔(مرقات)غالبًا یہ حکم کنوؤں اور کھیت والوں کو ہے جن کا پانی نالی کے ذریعے کھیت میں جارہا ہے،اس نالی سے کوئی شخص یا جانور پانی پی لے جہاں عرب شریف میں پانی کی تجارت پر ہی پانی والے گزارہ کرتے ہیں ان کے لیے یہ حکم نہیں ہے کہ اس صورت میں یہ پانی بچا ہوا نہیں بلکہ اپنی ضرورت کا ہے،وہاں پانی کی تجارت خصوصًا کویت سے آگے ریگستان میں یہ تجارت بڑی ضروری و لازمی ہے،ہم نے اس سفر میں منزل رماح میں بیس روپے ڈرام پانی خریدا،قریبًا سو میل کے ایریا(Area)میں یہاں دو تین کنوئیں ہیں،ان کنوؤں پر دور دراز سے انسان جانور آکر پانی پیتے ہیں،سینکڑوں روپے کا پانی فروخت ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2858