Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2866

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِلَابٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ فَنَهَاهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّا نُطْرِقُ الْفَحْلَ فَنُكْرَمُ فَرَخَّصَ لَهٗ فِي الْكَرَامَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أنس: أن رجلا من كلاب سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن عسب الفحل فنهاه فقال: يا رسول الله إنا نطرق الفحل فنكرم فرخص له في الكرامة. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ بنی کلاب کے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے نر جانوروں کی چوٹ کے متعلق پوچھا ۱؎آپ نے اس سے منع فرمایا۲؎اس نے عرض کیا یارسولاللّٰهہم تو نر چھوڑتے ہیں تو ہمیں ویسے ہی کچھ دے دیا جاتا ہے تو اسے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ہدیہ کے متعلق اجازت دی ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎کہ نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت کیسی ہے،وہاں اس کا رواج عام تھا،اب بھی اس کا عام رواج ہے۔
۲
؎جمہور علماء کے نزدیک یہ ممانعت تحریمی ہے اور اس کی اجرت مکروہ تحریمی،امام احمد حنبل کے ہاں بلا کراہت جائز،یہ حدیث جمہور کی دلیل ہے۔نطرقباب افعال سے ہے،طرق جانور کی منی کو بھی کہتے ہیں اور اس کی چوٹ کو بھی یہاں دوسرے معنی میں ہے۔ (مرقات)
۳
؎اس سے معلوم ہوا کہ اگر نر والا عاریۃً جانور دے دے،پھر مادہ والا بطور ہدیہ اسے کچھ پیسے یا چارہ دےتو بلاکراہت درست ہے،یہ ہی تمام آئمہ کا مذہب ہے غرضکہ جمہور کے ہاں اس کی اجرت منع،ہدیہ جائز۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2866