Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2846

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَمَّا الَّذِي نَهٰى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ الطَّعَامُ أَنْ يُبَاعَ حَتّٰى يُقْبَضَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلَا أَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلاَّ مِثْلَهٗ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عباس قال: أما الذي نهى عنه النبي صلى الله عليه وسلم فهو الطعام أن يباع حتى يقبض. قال ابن عباس: ولا أحسب كل شيء إلا مثله (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں جس چیز سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے منع فرمایا وہ یہ ہے کہ غلہ قبضہ کیے بغیر فروخت کردیا جائے حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ میں ہر چیز غلہ ہی کی مثل سمجھتا ہوں ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور انور سے میں نے صرف غلہ کے متعلق سنا ہے کہ غلہ کی بیع بغیر قبضہ کئے جائز نہیں مگر میرا اجتہاد یہ ہے کہ ہر چیز کا یہ ہی حکم ہے کہ بغیر قبضہ کیے ان کی فروخت درست نہیں کیونکہ علت مشترک ہے تو حکم بھی مشترک چاہیے،۔علوم ہوا کہ قیاس کرنا جائز ہے۔اس حدیث سے آج کل کے بیوپاری عبرت پکڑیں کہ کپڑے کا جہاز ولایت سے چلتا ہے،ابھی کراچی بندرگاہ پر نہیں پہنچ پاتا کہ کئی جگہ اس کی فروخت نفع سے ہوچکتی ہے،بعد میں پھر ان کے دیوالے ہوتے ہیں،بغیر دیکھی اور بغیر قبضہ کی کوئی چیز کی تجارت ہرگز نہ کرنی چاہیے کہ یہ شرعًا گناہ بھی ہے اور سخت نقصان کا باعث بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2846