- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- حدیث نمبر 2853
باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2853
تجارتوں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ: نَهٰى عَنِ الْمُلَامَسَةِ والمُنابذَةِ فِي البيعِ وَالْمُلَامَسَةُ: لَمْسُ الرَّجُلِ ثَوْبَ الْآخَرِ بِيَدِهٖ بِاللَّيْلِ أَو بِالنَّهارِ وَلَا يُقْلِّبُهٗ إِلَّا بِذٰلِكَ وَالْمُنَابَذَةُ: أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلٰى الرَّجُلِ بِثَوْبِهٖ وَيَنْبِذَ الْآخَرُ ثَوْبَهٗ وَيَكُونُ ذٰلِكَ بَيْعَهُمَا عَنْ غَيْرِ نَظَرٍ وَلَا تَرَاضٍ وَاللِّبْسَتَيْنِ: اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ وَالصَّمَّاءُ: أَنْ يَجْعَلَ ثَوْبَهٗ عَلٰى أَحَدِ عَاتِقَيْهِ فَيَبْدُوَ أَحَدُ شِقَّيْهِ لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ وَاللِّبْسَةُ الْأُخْرٰى : احْتِبَاؤُهٗ بِثَوْبِهٖ وَهُوَ جَالِسٌ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهٖ مِنْهُ شَيْءٌ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن أبي سعيد الخدري قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لبستين وعن بيعتين: نهى عن الملامسة والمنابذة في البيع والملامسة: لمس الرجل ثوب الآخر بيده بالليل أو بالنهار ولا يقلبه إلا بذلك والمنابذة: أن ينبذ الرجل إلى الرجل بثوبه وينبذ الآخر ثوبه ويكون ذلك بيعهما عن غير نظر ولا تراض واللبستين: اشتمال الصماء والصماء: أن يجعل ثوبه على أحد عاتقيه فيبدو أحد شقيه ليس عليه ثوب واللبسة الأخرى : احتباؤه بثوبه وهو جالس ليس على فرجه منه شيء. (متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو سعیدخدری سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے دو پہناؤں سے منع فرمایا اور دو تجارتوں سے ۱؎چھونے اور پھینکنے کی تجارت سے منع فرمایا ۲؎اور چھونے کی بیع یہ ہے کہ ایک شخص کا دن رات میں دوسرے کا کپڑا اپنے ہاتھ سے چھولیناہے کہ سوا چھونے کے اور طرح نہ الٹے پلٹے۳؎اور پھینکنے کی بیع یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کی طرف اپنا کپڑا پھینک دے اور دوسرا اس کی طرف اپنا کپڑا پھینک دے ان کی بیع ہوجائے بغیر دیکھے بھالے۴؎اور بغیر آپس کی پسندیدگی کے،رہے دو ممنوع پہنائے ایک تو صماء پہناوا ہے صماء یہ ہے کہ اپنا کپڑا ایک کندھے پر اس طرح ڈالے کہ دوسری کروٹ کھلی رہے کہ اس کے اوپر کپڑا بالکل نہ ہو۵؎اور دوسرا پہناوا اپنے کپڑے سے احتباءکرنا ہے جب کہ وہ بیٹھا ہو کہ شرمگاہ پر کپڑا بالکل نہ ہو ۶؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎لبستینلام کے کسرہ سےلبسبمعنی پہننے یا پوششلبسۃکا تثنیہ ہے یعنی دو پہناوے یا دو طرح لباس پہننا۔بیعتین بیعۃکا تثنیہ بمعنی فروخت،یہاں مطلقًا تجارت کے معنے میں ہے جس میں خریدو فروخت دونوں شامل ہیں ایسی بیع میں خریدار و تاجر دونوں گنہگار ہوں گے۔
۲؎کہ ان دونوں صورتوں میں خریدار کو چیز دیکھنے کا موقعہ نہیں ملتا جس سے وہ مال کے عیب و خوبی پر مطلع نہیں ہوتا اور خریداری بعد اطلاع چاہیے۔
۳؎اب بھی بڑے شہروں میں اس نامعقول بیع کا رواج ہے کہ دکان پر چیزیں پھیلی ہوئی ہیں،خریدار نے جس چیز پر ہاتھ لگادیا وہ بک گئی الٹ پلٹ کر دیکھنے کی اجازت نہیں،اس بیع میں اکثر دھوکا ہوتا ہے،خریدار لٹ جاتا ہے کہ چیز کا ظاہر اچھا ہوتا ہے اندرون خراب۔
۴؎کپڑے سے مراد وہ کپڑا ہے جسے فروخت کرنا ہے یعنی کپڑا کپڑے کے عوض بیچنا ہے تو کوئی دوسرے کے کپڑے کو نہ دیکھے اپنا کپڑا یہ اس کی طرف پھینک دے اوروہ اس کی طرف یہ پھینک ہی بیع ہوجائے،یہ بھی اس لیے ممنوع ہے کہ اس میں دیکھ بھال کا موقعہ نہیں ملتا۔
۵؎خیال رہے کہصماء صمسے بنا بمعنی ٹھوس ہونا کہ کوئی سوراخ یا منفذ نہ ہو اس لیے سخت پتھر کو ضخرہ صماء کہتے ہیں یعنی ٹھوس چٹان اور سخت بند کی ہوئی سر بہمر شیشی قازویہ صمام کہتے ہیں۔اشتمال صماء کی دو تفسیریں ہیں: ایک یہ کہ انسان اپنے بدن پر از سرتاپا ایک کپڑا اس طرح مضبوط لپیٹ لے کہ ہاتھ پاؤں جکڑ جائیں کھلنا مشکل ہوجائے،یہ بھی ممنوع ہے۔ دوسری تفسیر وہ ہے جو یہاں مذکور ہے کہ جسم پر صرف ایک کپڑا ہو وہ بھی اس طرح اوڑھا جائے کہ آدھا بدن ننگا رہے کہ جب ایک کندھا کھلا ہے تو اس طرف کا سارا بدن کھلا رہے گا،چونکہ یہ ننگا پہناوا ہے اس لیے ممنوع ہے،طواف میں جو احتباءکرتے ہیں وہاں ستر نہیں کھلتا کیونکہ تہبند بھی بندھا ہوتا ہے۔
۶؎احتباءاکڑوں بیٹھنے کو کہتے ہیں اس طرح کہ چوتر زمین پر لگے ہوں،دونوں گھٹنے کھڑے ہوں اور دونوں ہاتھ گھٹنوں کا حلقہ باندھے ہوں،اگر صرف ایک کپڑا اوڑھ کر احتباء کیا گیا ہو تو شرمگاہ برہنہ ہوجائے گی لہذا ممنوع ہے لیکن اگر تہبند بندھا ہو تو چونکہ ستر نہیں کھلتا لہذا جائز ہے۔وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ حضور انور کعبہ کے سایہ میں احتباء فرمائے بیٹھے تھے وہاں یہ دوسری صورت تھی لہذا یہ حدیث اس عمل شریف کے خلاف نہیں،دونوں حدیثیں حق ہیں۔(اشعۃ اللمعات وغیرہ)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2853