Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2835

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةُ: أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ الزَّرْعَ بِمِائَةِ فَرَقٍ حِنطَةً وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يَبِيعَ التَّمْرَ فِي رُؤُوسِالنَّخْلِ بِمِائَةِ فَرَقٍ وَالْمُخَابَرَةُ: كِرَاءُ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ والرُّبُعِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المخابرة والمحاقلة والمزابنة والمحاقلة: أن يبيع الرجل الزرع بمائة فرق حنطة والمزابنة: أن يبيع التمر في رؤوسالنخل بمائة فرق والمخابرة: كراء الأرض بالثلث والربع. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بیع مخابرہ،محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ۱؎محاقلہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنا کھیت سو فرق گندم کے عوض بیچے ۲؎اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت میں لگے چھوہارے سو فرق کے عوض بیچے اور مخابرہ زمین کو کرایہ پر دینا ہے تہائی یا چوتھائی پر ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎مخابرہ خیبرسے بنا یعنی خیبر والا معاملہ کرنا جو حضور انور نے خیبر کے یہود سے کیا کہ باغات حضور انور کے اور کام کاج یہود کا، پیداوار نصف نصف،یاخبارسے بنا بمعنی نرم زمین،جس میں زمین ایک کی ہو اور اس کا نرم کرکے جوتنا بونا دوسرے کے ذمے۔محاقلہحقلسے بنا بمعنی اچھی و زرخیز زمین،کھیت کو اسی لیے حقل کہتے ہیں کہ بیج حتی الامکان اچھی زمین میں بویا جاتا ہے۔
۲
؎فرقرکے فتح سے وہ پیمانہ ہے جس میں سولہ رطل یعنی آٹھ سیر گندم سمائے اورفرقرکے جزم سے وہ پیمانہ ہے جس میں ایک سو بیس سیر گندم آئے یعنی ڈیڑھ من،یہاں فرق کا ذکر تمثیل کے طور پر ہے یعنی گندم کی معین مقدار کھیت والے کو دے اور اس کی کھڑی کھیتی خرید لے۔(نہایہ،اشعہ،مرقات)مزابنہ پھل کی خرید فروخت کو کہا جاتا ہے اور محاقلہ دانہ کی ایسی تجارت کو۔
۳
؎مخابرہ اور مزارعہ قریبًا ہم معنے ہیں یعنی زمین کاشت کے لیے کرایہ پر دینا،ان میں فرق یہ ہے کہ مخابرہ میں تخم کرایہ دار کا ہوتا ہے اور مزارعہ میں تخم مالک زمین کا،صرف کام کرایہ دار کا۔مخابرہ یا مزارعہ کو امام ابوحنیفہ منع فرماتے ہیں اس حدیث کی وجہ سے،صاحبین جائز کہتے ہیں واقعہ خیبر کی وجہ سے،صاحبین یہ حدیث منسوخ مانتے ہیں اور حدیث خیبر کو ناسخ،فتویٰ قول صاحبین پر ہے،ہاں زمین کے معین حصہ کی پیداوار مالک یا کرایہ دار کے لیے مقرر کرنا باقی کی دوسرے کے لیے یہ حرام ہے کہ خبر نہیں کس حصہ میں کتنی پیداوار ہو اور ہو یا نہ ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2835