Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2855

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ وَكَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهٗ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ الْجَزُورَ إِلٰى أَنْ تُنتَجَ النَّاقَةُ ثمَّ تُنتَجُ الَّتِي فِي بَطَنِهَا(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع حبل الحبلة وكان بيعا يتبايعه أهل الجاهلية كان الرجل يبتاع الجزور إلى أن تنتج الناقة ثم تنتج التي في بطنها(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حمل کے حمل کی فروخت سے منع فرمایا ۱؎یہ ایک تجارت تھی جس کا جاہلیت والے کاروبار کرتے تھے کہ ایک اونٹ خریدتا تا آنکہ اونٹنی بچہ دے پھر اس کے پیٹ کی بچی بچہ دے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس جملہ شریف کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ حمل بیع یعنی کہ میری اونٹنی گیابھن ہے اس کے پیٹ کی بچی جب جوان ہو کر بچی دے گی اس کی بیع میں آج کرتا ہوں یہ بیع باطل ہے کہ معدوم چیز کی بیع ہے،نہ معلوم اونٹنی کے پیٹ میں مادہ ہے یا نر،دوسری یہ کہ کسی تجارت میں حمل کے حمل کی پیدائش سے اداء قیمت یا اداء سامان کی مدت مقرر کی جائے کہ اس کی قیمت میں جب دوں گا جب اس اونٹنی کے پیٹ کی بچی بچہ دے گی،یہ بیع فاسد ہے کہ وقت اداء مجہول ہے۔
۲
؎اس جملہ کی وہ ہی دو تفسیریں ہیں جو ابھی عرض کی گئیں کہ اونٹ خریدا مگر اس کی قیمت فلاں اونٹنی کی حمل کی بچی کے بچہ جننے پر دی جائے گی یا وہ ہی اونٹ خریدا ہے جو اس اونٹنی کے حمل کی بچی جنے گی،یہ بیع غرر ہے پہلی صورت میں فاسد ہے دوسری صورت میں باطل۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2855