Main Icon

باب : قنوت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1288

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ عَلیٰ أَحَدٍ أَوْ يَدْعُوَ لِأَحَدٍ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ فَرُبَّمَا قَالَ إِذَا قَالَ: " سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ: اَللّٰهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ ابْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ رَبِيعَةَ اَللّٰهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلیٰ مُضَرَ وَاجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ"يَجْهَرُ بِذٰلِكَ وَكَانَ يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهٖ: " اَللّٰهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِأَحْيَاءٍ مِنَ الْعَرَبِ حَتّٰى أَنْزَلَ اللهُ :( لَیۡسَ لَكَ مِنَ الۡاَمْرِ شَیۡءٌ)الْآيَة (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا أراد أن يدعو علی أحد أو يدعو لأحد قنت بعد الركوع فربما قال إذا قال: " سمع الله لمن حمده ربنا لك الحمد: اللهم أنج الوليد بن الوليد وسلمة ابن هشام وعياش بن ربيعة اللهم اشدد وطأتك علی مضر واجعلها سنين كسني يوسف"يجهر بذلك وكان يقول في بعض صلاته: " اللهم العن فلانا وفلانا لأحياء من العرب حتى أنزل الله :( لیس لك من الامر شیء)الآية (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب کسی پر بددعا یادعا کرنے کا ارادہ کرتے تو رکوع کے بعد قنوت پڑھتے ۱∞؎بار ہا جب "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ" کہتے تو کہتے الٰہی ولید ابن ولید سلمہ ابن ہشام عیاش ابن ربیعہ کو نجات دے ۲؎الٰہی سخت پامالی ڈال مضر پر اور اسے یوسف علیہ السلام کی قحط سالیوں کی طرح قحط سالی بنا۳؎یہ بآواز بلند کہتے ۴؎اور اپنی بعض نمازوں میں فرماتے الٰہی فلاں فلاں عربی قبیلوں پر لعنت کر ۵؎حتی کہ رب نے یہ آیت نازل فرمائی "لَیۡسَ لَكَ مِنَ الۡاَمْرِ شَیۡءٌ" ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎قنوت نازلہ جو فجر کے دوسرے رکوع کے بعدکسی خاص مصیبت کے موقع پر پڑھی جاتی ہے احناف بھی اسے ضرورۃً جائز کہتے ہیں۔۲؎اس جملہ میں دعا کا ذکر ہے اگلے میں بددعا کا یہ چاروں صحابہ مکہ معظمہ میں کفار کے ہاتھوں قید تھے،ولید ابن ولید مخزومی قرشی تھے،خالد ابن ولید کے بھائی جنگ بدر میں مسلمانوں کی قید میں آگئے تو حضرت خالد اور ہشام نے چار ہزار درہم دے کر چھڑالیا جب سب چھوٹ کر مکہ معظمہ پہنچے تو اسلام لائے اور فرمایا کہ میں قید میں اسلام اس واسطے نہ لایا کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ میں قید سے ڈر کر اسلام لایا اس بنا پر ان کے بھائیوں نے انہیں قید کردیا اور سخت ایذائیں دیں،حضورصلی الله علیہ وسلم ان کے لیئے دعا کرتے تھے،حضورصلی الله علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے یہ چھوٹ کر مدینہ منورہ آگئے،سلمہ ابن ہشام ابن مغیرہ ابوجہل کے حقیقی بھائی تھے جو قدیم الاسلام صحابی تھے اور اسلام کی وجہ سے مکہ معظمہ میں سخت مصیبت میں گرفتار تھے آخر کار بھاگ کر حضورصلی الله علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور عہدِ فاروقی میں جہاد میں شہید ہوئے،عیاش ابن ابی ربیعہ ابوجہل کے سوتیلے بھائی تھے،پرانے مومن تھے،پہلے حبشہ،پھر مدینہ پاک کی طرف ہجرت کی،حضورصلی الله علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے ابو جہل ماں کی بیماری کا بہانہ بنا کر دھوکہ سے انہیں مکہ معظمہ لے گیا اور وہاں بھاری قیدوں میں گرفتار کردیا،آخر حضورصلی الله علیہ وسلم کی دعا سے یہ بھاگ کر مدینہ پہنچے اور غزوہ تبوک میں شہید ہوئے۔(لمعات)۳؎یہ پکڑ کی تفسیر ہے،یعنی انہیں یوں پکڑ کر ان پر قحط سالی مسلّط کردے تاکہ تنگ آکر اسلام لے آئیں اور مشرکین مکہ اس بدعا کی وجہ سے سخت قحط سالی میں گرفتار ہوئے۔خیال رہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے کسی کو اپنی نفسیاتی وجہ سے بددعا نہ دی،اپنے ظالموں کو معاف کیا ا ور دعائیں دیں،ہاں دینی دشمنوں کو بددعائیں دی ہیں،یہاں اسی ہی بددعا کا ذکر ہے لہذا یہ حدیث نہ تو حضورصلی الله علیہ وسلم کے رحمۃً اللعالمین ہونے کے خلاف ہے اور نہ ان احادیث کے جن میں ارشاد ہوا کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کسی کو بددعا نہ کرتے تھے۔۴؎قنوت نازلہ کا بلند آواز سے پڑھنا منسوخ ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے اب اگر پڑھنا پڑےتو آہستہ پڑھے۔۵؎یعنی آپ بعض قبیلوں رعل و ذکوان وغیرہم کا نام لے کر ان پر لعنت فرماتے تھے، بعض نمازوں سے مراد نماز فجر ہے جیسا کہ دوسری روایات میں ہے اور اگر فجر کے سوا اور نمازیں مراد ہیں تو یہ بھی منسوخ ہیں۔۶؎یعنی اس آیت کے نزول سے قنوت نازلہ منسوخ ہوگئی۔معلوم ہوا کہ قرآن شریف سے حدیث منسوخ ہوسکتی ہے۔خیال رہے کہ قنوت نازلہ کا یا تو جہر منسوخ ہے یا ہمیشہ پڑھنا منسوخ،ورنہ ضرورت پر اب بھی آہستہ پڑھی جاسکتی ہے۔اس آیت کی تفسیر اور نسخ کی وجہ ہماری تفسیر حاشیۃ القرآن"نورالعرفان"میں ملاحظہ فرماؤ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1288