Main Icon

باب:شفعہ کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2961

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن جابر قال: قضى النبي صلى الله عليه وسلم بالشفعة في كل ما لم يقسم فإذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ہر اس زمین پر شفعہ کا فیصلہ فرمایا جو تقسیم نہ کی گئی ہو ۱؎مگر جب حدیں مقرر ہوگئیں اور راستے پھیر دیئے گئے تو شفعہ نہیں ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جس زمین میں دو شخص شریک ہیں ان میں سے ایک شخص اپنا حصہ فروخت کررہا ہے تو دوسرا شریک ہی خریدے گا،اگر یہ نہ خریدے تو دوسرا خرید سکتا ہے،اگر اس شریک کی بے خبری میں یہ زمین وغیرہ فروخت ہوگئی تو شریک مطلع ہوکر وہ بیع ختم کراسکتا ہے۔ اس حدیث کا عموم بتارہا ہے کہ زمین قابل تقسیم ہو یا نہ ہو بہرحال حق شفعہ اس میں ہوگا،امام شافعی کے ہاں ناقابل تقسیم میں شفعہ نہیں،یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔
۲
؎آخری جملہ حضرت جابر کا اپنا قول ہے،حضور انور کا فرمان نہیں حضور کا فرمان عالیمالم یقسمپر ختم ہوگیا۔ (مرقات)اگر حضور انور کا فرمان عالی مانا جائے تو ان احادیث کے خلاف ہوگا جن میں پڑوسی کے حق شفعہ کا ثبوت ہے اور اگر حضور عالی کا فرمان بھی ہو تب بھی اس کے معنی یہ ہیں کہ شفعہ شرکت نہ رہا کیونکہ شرکت تو ختم ہوچکی،رہا شفعہ جوار یعنی پڑوسی کی وجہ سے حق شفعہ یہ دوسری احادیث سے ثابت ہے لہذا یہ جملہ ان احادیث کے خلاف نہیں کہ اس میں مطلقًا شفعہ کی نفی نہیں شفعہ شرکت کی نفی ہے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں،تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2961