Main Icon

باب:ولیمہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3210

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ: "مَا هَذَا؟ " قَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ: "بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ". مُتَّفقٌ عَلَيْهِ.

عن أنس: أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى على عبد الرحمن بن عوف أثر صفرة فقال: "ما هذا؟ " قال: إني تزوجت امرأة على وزن نواة من ذهب قال: "بارك الله لك، أولم ولو بشاة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عبدالرحمن ابن عوف پر زردی کا اثر دیکھا ۱؎تو فرمایا یہ کیا عرض کیا میں نے ایک عورت سے گٹھلی بھر سونے پر نکاح کرلیا ہے ۲؎فرمایا اتمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ہی ہو ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ان کے جسم یا کپڑوں پر زرد رنگ کا اثر ملاحظہ فرمایا جو زوجہ سے اختلاط کے باعث بے قصد لگ گیا تھا ورنہ حضرات صحابہ کرام شادی میں اپنے پر زعفران نہ ملتے تھے کہ مرد کے لیے یہ رنگ ممنوع ہے ہاں شادی سے پہلے دولہا دولہن کو جو ابٹن ملا جاتا ہے جس میں خوشبو اورصفائی والی چیزیں ہوتی ہیں یہ بلا کراہت جائز ہے کہ یہ صابون کی طرح جسم کی صفائی نرمی کے لیے ہے۔بعض صابون بہت خوشبودار ہوتے ہیں جیسے لکس(Lux)وغیرہ ایسے ہی یہ ابٹن ہے۔
۲
؎بعض شارحین نے فرمایا کہ نواۃ ایک خاص وزن کا نام ہے جو پانچ درہم کے برابر ہوتا ہے جیسے نش بیس درہم کا اور اوقیہ چالیس درہم کا مگر یہ درست نہیںنواۃکے معنی ہیں چھوارے کی گٹھلی وہ ہی یہاں مراد ہے۔
۳
؎حق یہ ہے کہ یہ امر استحبابی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ (۱) ناکح کو دعائے برکت دینا سنت ہے(۲) ولیمہ کرنا سنت ہے (۳)ولیمہ رخصتی کے بعد بھی ہوسکتا ہے(۴)ولیمہ بقدر طاقت زوج ہو اس کے لیے مقدار مقرر نہیں بعض علماء کے ہاں ولیمہ واجب ہے وہ حضرات یہ امر وجوب کے لیے مانتے ہیں مگر حق وہ ہی ہے جو ہم نے عرض کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3210