Main Icon

باب:پینے کی چیزوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4263

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ). وَزَادَ مُسْلمٌ فِي رِوَايَةٍ وَيَقُولُ: "إِنَّهٗ أَرْوٰى وَأَبْرَأُ وَأَمْرَأُ".

عن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتنفس في الشراب ثلاثا. (متفق عليه). وزاد مسلم في رواية ويقول: "إنه أروى وأبرأ وأمرأ".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پینے میں تین سانس لیتے تھے ۱؎(مسلم،بخاری) مسلم نے یہ زیادتی کی کہ فرماتے تھے یہ زیادہ سیرکرنے والا زیادہ صحت بخش اور زود ہضم ہے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پانی پیتے میں برتن سے علیٰحدہ منہ کرکے تین سانسیں لیتے تھے۔پہلی سانس پینا شروع کرتے وقت پھر کچھ پی کر سانس لیتے یہ دوسرا سانس شریف ہوا،پھرکچھ پی کر تیسرا سانس لیتے یہ تیسرا سانس ہوا یعنی دوران پینے میں دو سانس لیتے تھے اور کل تین سانس،یہ عمل شریف ہر پینے میں ہوتا تھا خواہ پانی ہو یا دودھ یا شربت یا کوئی اور چیز اور یہ ہی سنت ہے مگر خیال رہے کہ یہ سانسیں برتن سے منہ الگ کرکے ہیں۔
۲
؎ارویبنا ہےرویسے بمعنی سیرابی اس لیے مشکیزہ کو راویہ کہتے ہیں کہ یہ ذریعہ سیری ہے اورابرابنا ہےبرءسے بمعنی دوری صحت کو براءت کہتے ہیں کہ اس میں مرض سے دوری ہوجاتی ہے،ابراکا معنی زیادہ صحت بخش ہے اورامرابنا ہےمرالطعامسے بمعنی کھانا ہضم ہوجانا یعنی تین سانسوں میں پینے سے یہ تین فائدے ہیں،ان فوائد کا آج بھی مشاہدہ ہوتا ہے،ایک سانس میں پانی پینے سے زیادہ پیا جاتا ہے۔ایک روایت میں ہے کہ آپ سرکار اول میںبسم اﷲپڑھتے اور تیسری بار پی کرالحمدﷲپڑھتے تھے،یہی سنت ہے اور فرماتے تھے کہ ایک سانس میں پانی پیناشیطان کاطریقہ ہے اور اس سے مرض کباد یعنی جگر کی بیماری پیدا ہوتی ہے،یہ حدیث بہت اسنادوں پر مروی ہے اس کی تفصیل یہاں مرقات میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4263