Main Icon

باب: خاوند کے مال سے بیوی کی خیرات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1947

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذْ أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ، وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا كَسَبَ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ، لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن عائشة قالت: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "إذ أنفقت المرأة من طعام بيتها غير مفسدة كان لها أجرها بما أنفقت، ولزوجها أجره بما كسب، وللخازن مثل ذلك، لا ينقص بعضهم أجر بعض شيئا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے جب عورت اپنے گھر کے کھانے سے کچھ خیرات کرے بشرطیکہ بربادی کی نیت نہ ہو تو اسے خیرات کرنے کا ثواب ہوگا ۱؎اور اس کے خاوند کو کمانے کا ثواب اور خزانچی کو بھی اس کے برابر جن میں کوئی دوسرے کے ثواب سے کچھ کم نہ کرے گا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اگرچہ حدیث پاک میں کھانے کی خیرات کا ذکر ہے مگر اس میں تمام وہ معمولی چیزیں داخل ہیں جن کے خیرات کرنے کی خاوند کی طرف سے عادۃً اجازت ہوتی ہے جیسے پھٹا پرانا کپڑا،ٹوٹا جوتا وغیرہ اور کھانے میں بھی عام کھانا روٹی سالن داخل ہے جس کو خیرات کرنے سے خاوند کی طرف سے ناراضی نہیں ہوتی،اگر خاوند نے کوئی خاص حلوہ یا معجون اپنے گھر کے خرچ کےلیے بہت روپیہ خرچ کرکے تیار کی ہے تو اس میں سے خیرات کی عورت کو اجازت نہیں۔مرقات نے فرمایا یہاں خرچ کرنے میں بچوں پر خرچ،مہمانوں کی خاطر تواضع پر خرچ،بھکاری فقیر پر خرچ سب ہی شامل ہے مگر شرط یہ ہی ہے کہ مال بربادکرنے کی نیت نہ ہو بلکہ حصول ثواب کا ارادہ ہو اور اتنا ہی خرچ کرے جتنے خرچ کردینے کی عادت ہوتی ہے۔
۲
؎یہاں اصل ثواب میں سب برابر ہیں اگرچہ مقدار ثواب میں فرق ہے۔کمانے والے کا ثواب ان سب میں زیادہ ہوگا لہذا یہ حدیث اگلی حدیث کے خلاف نہیں جس میں عورت کے لیے آدھا ثواب فرمایا گیا ہے کہ یہاں اصل ثواب میں برابری مقصود ہے اور وہاں مقدار ثواب میں فرق ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1947