Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5979

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هٰذَاالشَّأْنِ، مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الناس تبع لقريش في هذاالشأن، مسلمهم تبع لمسلمهم وكافرهم تبع لكافرهم» . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ اس کام میں قریش کے تابع ہیں ان کے مسلم قریش کے مسلمانوں کے تابع ہیں اور ان کے کافر قریش کے کافروں کے تابع ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس فر مان عالی کے بہت معنی کیے گئے ہیں۔قوی معنی یہ ہیں کہ زمانہ کفر میں بھی قریش تمام لوگوں کے سردار تھے کہ یہ حرم شریف کے باشندے،کعبہ کے پاسبان کلید بردار وغیرہ تھے حتی کہ کفار عرب ان کا لباس لے کر طواف کرتے تھے ورنہ ننگے،پھر ہدایت و اسلام میں بھی بقیہ لوگوں کے سردار ہوئے کہ حضور انور انہیں میں تشریف لائے،خلافت انہیں میں ہے۔ کفار عرب فتح مکہ کے منتظر تھے یہ فتح ہوا تو سب لوگ دھڑا دھڑ مسلمان ہوگئے بہرحال قدرتی طور پر ہمیشہ سے ہمیشہ تک قریش افضل تھے اور ہیں اور رہیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5979