Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5994

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَرَوٰى مُسْلِمٌ فِي «الصَّحِيحِ» حِينَ قَتَلَ الْحَجَّاجُ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَتْ أَسْمَاءُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا «أَنَّ فِي ثَقِيْفٍ كَذَّابًا وَمُبِيْرًا» فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَرَأَيْنَاهُ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلَا إِخَالُكَ إِلَّا إِيَّاهُ. وَسَيَجِيءُ تَمَامُ الحَدِيثِ فِي الْفَصْلِ الثَّالِثِ

وروى مسلم في «الصحيح» حين قتل الحجاج عبد الله بن الزبير قالت أسماء: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثنا «أن في ثقيف كذابا ومبيرا» فأما الكذاب فرأيناه وأما المبير فلا إخالك إلا إياه. وسيجيء تمام الحديث في الفصل الثالث

حدیث ترجمہ

مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کی کہ جب حجاج نے عبدالله ابن زبیر کو قتل کیا تو بی بی اسماء نے کہا ۱؎کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہم کو خبر دی کہ ثقیف میں ایک جھوٹا ہے اور ایک ہلاک کرنے والا جھوٹے کوتو ہم نے دیکھ لیا ۲؎لیکن مہلک کو تو میں تجھے نہیں خیال کرتی مگر وہ ہی۳؎اور پوری حدیث تیسری فصل میں آوے گی۔

شرح حدیث

۱∞؎حضرت عبد اللہ ابن زبیر کے قتل کا واقعہ ابھی تیسری فصل میں آرہاہے حضرت اسماء بنت ابو بکر صدیق حضرت زبیر کی بیوی اور عبدالله ابن زبیر کی والدہ عائشہ صدیقہ ام المؤمنین کی بہن ہیں رضی الله عنہا۔
۲
؎یعنی مسیلمہ کذاب جس نے جھوٹا دعویٰ نبوت کیا بہت لوگوں کو گمراہ کیا آخر وحشی کے ہاتھوں خلافت صدیقی میں مارا گیا تواریخ اس واقعہ سے بھری ہوئی ہیں۔
۳
؎یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس ظالم کا نام نہیں بتایا مگر تیرے کام بتارہے ہیں کہ تو وہی ہے کہ تو نے امت رسول کو بہت ہی قتل کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5994