Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5987

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: " مَا زِلْتُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مُنْذُ ثَلَاثٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِمْ سَمِعْتُهٗ يَقُولُ: « هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ» قَالَ:وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « هٰذِهٖ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا» وَكَانَتْ سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ: « اعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: " ما زلت أحب بني تميم منذ ثلاث سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول فيهم سمعته يقول: « هم أشد أمتي على الدجال» قال:وجاءت صدقاتهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « هذه صدقات قومنا» وكانت سبية منهم عند عائشة فقال: « اعتقيها فإنها من ولد إسماعيل». (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں تین وجہوں سے بنی تمیم سے محبت کرتا رہا جو میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ان کے متعلق فرماتے سنا،میں نے حضور کو فرماتے سنا کہ یہ لوگ میری امت میں دجال پر سخت تر ہوں گے ۱؎فرمایا ان کے صدقے آئے تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ہماری قوم کے صدقے ہیں۲؎اور جناب عائشہ کے پاس ان میں کی ایک لونڈی تھی تو فرمایا کہ اسے آزاد کر دو کہ یہ حضرت اسماعیل کی اولاد سے ہے۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دجال کے خروج کے وقت بنی تمیم بہت زیادہ ہوں گے،دجال کا مقابلہ سب سے زیادہ یہ ہی کریں گے،یہ مقابلہ ان کے قوت ایمان کی دلیل ہے۔معلوم ہوا کہ بعض افراد کی عظمت کی وجہ سے ساری قوم کو عظمت مل جاتی ہے خواہ وہ افراد اب ہوں یا پہلے ہوچکے ہوں یا آئندہ ہونے والے ہوں۔یہاں تیسری قسم کی عظمت ہے کہ دجال سے مقابلہ کرنے والے تمیمی قریب قیامت ہوں گے مگر اس قوم کا احترام محبت آج ہی سے ہے۔
۲
؎یعنی حضور انور نے بنی تمیم کو اپنی قوم فرمایا،اس نسبت سے ان کی عظمت کو چار چاند لگ گئے؎بد ہیں تو تمہارے ہیں بھلے ہیں تو تمہارے نسبت بہت اچھی ہے اگر حال برا ہے
ہم لاکھ بار کہیں کہ حضور ہمارے رسول ہیں اگر وہ ایک بار فرمادیں کہ تو ہمارا امتی ہے تو تقدیر کھل جاوے
؎رضا قسمت ہی کھل جاوے جو طیبہ سے خطاب آئے کہ تو ادنی سگ درگاہ دربار معالی ہے
خیال رہے کہ ہم مذہب،ہم مشرب،ہم وطن،ہم پیشہ،ہم نسب،ہم زبان،ہم استاذ،ہم پیر ان سب کو قوم کہا جاتا ہے۔یہاں ہم وطن یا ہم زبان کے معنی سے قوم فرمایا گیا ورنہ بنی تمیم قرشی ہاشمی نہیں ہیں۔
۳
؎یعنی بنی تمیم عرب میں اولاد اسمعیل سے ہیں،اس خاندان اور عرب اس نسل کا غلام آزاد کرنا افضل ہے۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کی اولاد پر احسان کرنا دوسروں پر احسان کرنے سے افضل ہے،اولاد سے سلوک آباء اجداد کی خوشنودی کا باعث ہے۔ بعض مسلمان گیارہویں شریف کا کھانا حضور غوث پاک کی اولاد یعنی حسنی سیدوں کو کھلاتے ہیں یعنی انہیں ترجیح دیتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہوسکتی ہے،اصل سے نسل کو شرف ملتا ہے مگر کبھی نسل سے اصل کو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5987