Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5992

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكْرَهٗ ثَلَاثَةَ أَحْيَاءٍ: ثَقِيفٍ وَبَنِي حَنِيفَةَ وَبَنِي أُمَيَّةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن عمران بن حصين قال: مات النبي صلى الله عليه وسلم وهو يكره ثلاثة أحياء: ثقيف وبني حنيفة وبني أمية. رواه الترمذي وقال: هذاحديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران بن حصین سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے وفات پائی حالانکہ آپ تین قبیلوں کوناپسند کرتے تھے ثقیف اور بنی حنیفہ اور بنی امیہ ۲؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور صحابی ہیں،حضرت ابوہریرہ کے ساتھ خیبر کے سال اسلام لائے،تیس سال بستر علالت پر رہے،چلنے پھرنے سے معذور تھے،آپ کو فرشتے سلام کرتے تھے،ایک دوست آپ کی حالت زار دیکھ کر رونے لگے،آپ نے فرمایا اگر تم کو میری اندرونی حالت کی خبر ہوتی تو تم مجھ پر خوشی حاصل کرتے مجھے فرشتے برملا سلام کرتے ہیں انہیں جواب دیتا ہوں،اس لذت میں مجھے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی،میری زندگی میں یہ بات کسی سے نہ کہنا۔(اشعہ)آپ نے ۵۲ھ؁ ∞باون میں بصرہ میں وفات پائی۔ (مرقات)
۲
؎ثقیف بنی ہوازن کا ایک خاندان ہے اس خاندان کے مورث کا لقب ثقیف تھا،اس کا نام قسی ابن منبہ ابن ابکر ابن حنفِیہ ہوازن ہے۔(مرقات)اور بنی حنیفہ بھی ایک قبیلہ ہے جو اثال ابن الحلیم کی اولاد ہے۔اثال کا لقب حنیفہ تھا،اسی قبیلہ کی عورت خولہ بن جعفر حنفِیہ ہے جو حضرت علی کی بیوی ہے اس کے بطن سے محمد ابن حنفِیہ پیدا ہوئے،اس سے جو نسل چلی انہیں علوی کہا جاسکتا ہے یعنی حضرت علی کی اولاد۔(از مرقات)اور بنی امیہ مشہور قبیلہ ہےاس قبیلہ سے حضرت عثمان ابن عفان ہیں،امیہ ہاشم کا بھائی تھا،ہاشم کی اولاد ہاشمی کہلاتی ہے،ان میں حضور صلی الله علیہ وسلم ہیں اور امیہ کی اولاد اموی یا بنی امیہ کے نام سے موسوم ہے۔ ان تینوں قبیلوں کو ناپسند فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں بعض لوگ بڑے موذی و خطرناک ہوتے ہیں،بنی ثقیف میں ظالم حجاج ابن یوسف اور بنی حنیفہ میں مسیلمہ کذاب جس نے دعویٰ نبوت کیا،بنی امیہ میں یزید عبید الله ابن زیاد جیسے ظالم ہوئے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بنی امیہ کا ہر فرد حضور کو ناپسند تھا ورنہ حضرت عثمان بنی امیہ میں وہ ہستی ہیں جو حضور کی دو بیٹیوں کے خاوند ہوئے اس لیے آپ کو ذوالنورین یعنی دو نور والا کہا جاتا ہے،اس دنیا میں کوئی شخص کسی نبی کی دو صاحبزادیوں کا خاوند نہیں ہوا سوا آپ کے،ایسے ہی عمر ابن عبدالعزیز بنی امیہ سے ہیں رضی الله عنہم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5992