Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4911

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: أُمَّكَ . قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أُمَّكَ . قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ أُمَّكَ . قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أَبُوكَ . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: أُمَّكَ ثُمَّ أُمَّكَ ثُمَّ أُمَّكَ ثُمَّ أَبَاكَ ثمَّ أَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي هريرة قال: قال رجل: يا رسول الله من أحق بحسن صحابتي؟ قال: أمك . قال: ثم من؟ قال: أمك . قال: ثم من؟ قال أمك . قال: ثم من؟ قال: أبوك . وفي رواية قال: أمك ثم أمك ثم أمك ثم أباك ثم أدناك فأدناك . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول الله میرے اچھے برتاوے کا زیادہ حقدار کون ہے ۱∞؎فرمایا تمہاری ماں عرض کیا پھر کون فرمایا تمہاری ماں عرض کیا پھر کون فرمایا تمہاری ماں عرض کیا پھر کون فرمایا تمہارا باپ ۲؎اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا تمہاری ماں پھر تمہاری ماں پھر تمہاری ماں پھر تمہار اباپ پھر تمہارا قریبی پھر قریبی ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎صحابۃصاد کے کسرہ سے بمعنی مدد یا برتاوا،خدمت اسی سے ہے صحبت و ہمراہی جو الفت خدمت و مدد کے ساتھ ہو اس لیے جن کفار نے حضور انور کے ساتھ مجلس کی انہیں صحابی نہیں کہا جاتا کہ وہ ہمراہی الفت و خدمت کے ساتھ نہ تھی یعنی میرے رشتہ دار قریبی دور کے بہت ہی ہیں اچھا برتاوا کس سے کروں اس کا کون مستحق ہے۔
۲
؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ ماں کا حق باپ سے تین گنا زیادہ ہے کیونکہ ماں بچہ پر تین احسان کرتی ہے باپ ایک احسان۔پیٹ میں رکھنا،جننا،پرورش کرنا باپ صرف پرورش ہی کرتا ہے۔بیٹا ماں باپ دونوں کی خدمت کرے مگر مقابلہ کی صورت میں ادب و احترام باپ کا زیادہ کرے خدمت و انعام ماں کی زیادہ۔(اشعہ) ماں باپ کے ساتھ سلوک یہ ہے کہ ان سے نرم اور نیچی آواز سے کلام کرے،مالی و بدنی خدمت کرے یعنی اپنے نوکروں سے ہی ان کا کام نہ کرائے بلکہ خودکرے،ان کا ہر جائز حکم مانے،انہیں نام لے کر نہ پکارے،اگر وہ غلطی پر ہوں تو نرمی سے ان کی اصلاح کرے،اگر قبول نہ کریں تو ان پر ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے، ان کی سختی پر تحمل کرے،یہ آداب قرآن مجید میں اور حضرت خلیل الله علیہ السلام کے عمل شریف میں مذکور ہیں اس کے متعلق ہماری تفسیرنعیمی کا مطالعہ فرماؤ۔
۳
؎یعنی ماں باپ کے ساتھ ان کے عزیزوں کے حق بھی ادا کرے کہ چچا ماموں،دادا نانا،بہن بھائی وغیرہم کے حقوق ادا کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4911