Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4928

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَقَالَ: إِنَّ لِي امْرَأَةً وَإِنَّ أُمِّي تَأْمُرُنِي بِطَلَاقِهَا؟ فَقَالَ لَهٗ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَإِنْ شِئْتَ فَحَافِظْ عَلَى البَابِ أَوْ ضَيِّعْ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعن أبي الدرداء أن رجلا أتاه فقال: إن لي امرأة وإن أمي تأمرني بطلاقها؟ فقال له أبو الدرداء: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم: الوالد أوسط أبواب الجنة فإن شئت فحافظ على الباب أو ضيع . رواه الترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابی الدرداء سے کہ ایک شخص انکے پاس آیا بولا میری بیوی ہے اور میری ماں اسے طلاق دے دینے کا مجھے حکم دیتی ہے ۱∞؎تو ان سے ابوالدرداء نے فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ والدین جنت کے دروازوں میں بیچ کا درازہ ہیں تو اگر تم چاہو تو دروازہ سنبھال لو یا اسے ڈھا دو ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی فرمایئے میں کیا کروں اسے طلاق دوں یا نہ دوں کہ طلاق تمام مباح چیزوں میں بہت ہی ناپسندیدہ چیز ہے۔
۲
؎مقصد یہ ہے کہ یا تو اپنی بیوی سے اپنی ماں کو راضی کردو ساس بہو کی صلح کرا دو یا طلاق دے دو صراحۃً طلاق کا حکم نہ دیا کہ ایسی صورت میں طلاق دینا واجب نہیں بہتر ہے اور اگر ماں باپ بیوی پر ظلم کرنے کا حکم دیں کہ اسے خرچہ نہ دے اسے میکے میں چھوڑ دے تو ہرگز نہ کرے کہ ظلم حرام ہے ماں باپ کی اطاعت حکم شرع کے خلاف میں نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4928