Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4939

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَرَدْتُّ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ. فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَالْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلِهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

وعن معاوية بن جاهمة أن جاهمة جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله أردت أن أغزو وقد جئت أستشيرك. فقال: هل لك من أم؟ قال: نعم. قال: فالزمها فإن الجنة عند رجلها . رواه أحمد والنسائي والبيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاویہ بن جاہمہ سے کہ جاہمہ ۱∞؎نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی یارسول الله میں جہادکرنا چاہتا ہوں اور آپ سے مشورہ لینے حاضر ہوا ہوں ۲؎تو فرمایا کیا تیری ماں ہے عرض کیا ہاں فرمایا اسے مضبوط پکڑو۳؎کیونکہ جنت اس کے پاس ہے ۴؎(احمد،نسائی،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یہ معاویہ بھی صحابی ہیں،ان کے والد جاہمہ ابن عباس ابن مرداس سلمی بھی صحابی یہ اہلِ حجاز سے ہیں۔
۲
؎غالباً اس وقت کفار کا دباؤ زیادہ نہ تھا بعض تھوڑے مسلمان بھی ان کے مقابلہ کے لیے کافی تھے۔غرضکہ اس وقت غزوہ فرض عین نہ تھا فرض کفایہ تھا۔
۳
؎یعنی اپنی ماں کے پاس رہو اس کی خدمت کرو تمہارے لیے اس وقت جہاد سے بہتر ماں کی خدمت ہے کہ ماں کو تمہاری خدمت کی ضرورت ہے۔
۴
؎پاؤں کا ذکر فرماکر اشارۃً بتایا کہ ماں کی خدمت اور اس کے سامنے عاجزی دونوں ہی ضروری ہیں۔خدمت کے ساتھ اکڑ نہ کرے اس کے پاؤں سے لگارہے تب جنت پائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4939