Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3787

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ آمَنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَصَامَ رَمَضَانَ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللّٰهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ جَاهَدَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ أَوْ جَلَسَ فِيْ أَرْضِهِ الَّتِيْ وُلِدَ فِيْهَا" قَالُوْا: أَفَلا نُبشِّرُ بِهِ النَّاسَ؟ قَالَ: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِئَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللّٰهُ لِلْمُجَاهِدِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ، مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰهَ فَاسْأَلُوْهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهٗ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ، وَفَوْقَهٗ عَرْشُ الرَّحْمَنِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من آمن بالله ورسوله، وأقام الصلاة، وصام رمضان، كان حقا على الله أن يدخله الجنة جاهد في سبيل الله أو جلس في أرضه التي ولد فيها" قالوا: أفلا نبشر به الناس؟ قال: "إن في الجنة مئة درجة أعدها الله للمجاهدين في سبيل الله، ما بين الدرجتين كما بين السماء والأرض، فإذا سألتم الله فاسألوه الفردوس، فإنه أوسط الجنة وأعلى الجنة، وفوقه عرش الرحمن، ومنه تفجر أنهار الجنة". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے جو ایمان لایاپر اور اس کے رسول پر ۱؎اور نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے ۲؎اسے جنت میں داخل کرناکے ذمہ ہے۳؎خواہکی راہ میں جہاد کرے یا اپنی اس زمین میں بیٹھ رہے جس میں پیدا ہوا ۴؎لوگوں نے عرض کیا کہ کیا ہم لوگوں کو خوشخبری نہ دے دیں ۵؎فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں ۶؎جونے ان کے لیے تیار کیے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد کریں ۷؎دو درجوں کے درمیان وہ فاصلہ ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے ۸؎جب تمسے مانگو تو فردوس مانگو وہ جنت کا درمیان اور جنت کا اعلیٰ حصہ ہے ۹؎جس کے اوپرکا عرش ہے وہاں سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں۱۰؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎قرآن مجید اور حدیث شریف میں رسول سے مراد حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہوتے ہیں اوررسول پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ رب نے جو کچھ بھیجا اورحضور جو کچھ لائے ان سب پر ایمان لائے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ حقیقتًا ایمان ہےرسول کو ملانا،رسول میں فرق کرنا کفر ہے،قرآن کریم فرماتاہے:"اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍۙ-وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًاۙ(۱۵۰) اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّاۚ"۔ملانے کے معنے ہماری کتاب اسلام کی چار اصطلاحوں میں دیکھو۔
۲
؎چونکہ نماز روزہ تمام عبادات میں افضل ہیں،نیز ان کا پابند دوسری عبادات بھی بفضلہ تعالٰی باآسانی ادا کرتا ہے ان وجوہ سے یہاں صرف ان ہی دونوں کا ذکر فرمایا اور ہوسکتا ہے کہ اس فرمان عالی کے وقت زکوۃ و حج فرض نہ ہوئے ہوں اس لیے ان کا ذکر نہ فرمایا گیا ہو یا حج و زکوۃ کی فرضیت صرف مالداروں پر ہے روزہ نماز سب پر۔
۳
؎یعنی حق تعالٰی کے وعدے کی بنا پر جو اس نے وعدہ فرمایا،داخلہ سے مراد اولی داخلہ ہے ورنہ جنت کا مطلق داخلہ تو صرف ایمان سے ہوگا یا بلندی درجات کے ساتھ داخلہ ان اعمال سے ہوگا کیونکہ جنت کا داخلہ ایمان سے ہوگا وہاں درجات اعمال صالحہ سے ہے۔
۴
؎مرقات نے فرمایا کہ اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ارشاد فتح کے دن یا اس کے بعد ہے کہ فتح سے پہلے ہجرت فرض تھی اور یہاں وطن پیدائش میں رہنے کی اجازت ہے مگر فتح سے پہلے صرف مکہ معظمہ سے یا جہاں کفار کا غلبہ تھا وہاں سے ہجرت فرض تھی اسلامی شہروں سے ہجرت کرنا فرض نہ تھی۔اس سے بھی معلوم ہورہا ہے کہ عام حالات میں جہاد فرض کفایہ ہوتا ہے بعض خصوصی حالات میں فرض عین ہوجاتا ہے۔
۵
؎یہ عرض کرنے والے حضرت معاذ ابن جبل جیساکہ ترمذی میں ہے وہاں یہ بھی ہے کہ حضور نے فرمایا چھوڑ دو کہ لوگ عمل کریں۔خیال رہے کہ ایسی احادیث حضرات صحابہ نے اپنی وفات کے وقت اس خوف سے بیان فرمادیں کہ وہ علم چھپانے کے الزام میں نہ آویں لہذا یہ اعتراض نہیں کہ جب حضور انور نے منع فرمادیا تھا تو ان حضرات نے ایسی احادیث روایت کیوں فرمادیں۔
۶
؎ترمذی میں ہے کہ ہر درجہ اتنا وسیع ہے کہ ان میں سے ایک درجہ میں عالمین جمع ہوجائیں تو سب کو کافی ہوجاوے۔
۷
؎مجاہدین سے مراد نمازی حاجی اورنفس سے مجاہدہ کرنے والے سب ہی ہیں۔(مرقات)بشرطیکہ یہ کام رضائے الٰہی کے لیے ہوں جیسا کہفی سبیل اﷲسے معلوم ہوا۔
۸
؎یعنی پانچ سو سال کا راہ یہ سو درجے مجاہدین فی سبیلکے لیے خاص ہیں لہذا مجاہدہ کرو تاکہ یہ درجہ پاؤ۔
۹
؎اوسطسے مراد ہے افضل اور اعلیٰ سے مراد سب سے اونچا ہے لہذا اوسط اور اعلیٰ ہی میں تعارض نہیں۔
۱۰
؎یعنی فردوس کی چھت عرش اعظم ہے اور فردوس سے جنت کی چاروں نہریں پانی،دودھ،شراب طہور اور شہد کی نہریں اصولًا یہاں سے نکلتی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3787