Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3847

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهٗ قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَخْبِرْنِيْ عَنِ الْجهَادِ فَقَالَ: "يَا عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عَمْرٍو! إِنْ قَاتَلْتَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا بَعَثَكَ اللّٰهُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا، وَإِنْ قَاتَلْتَ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا بَعَثَكَ اللّٰهُ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا،يَا عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عَمْرٍو! عَلٰى أَيِّ حَالٍ قَاتَلْتَ أَوْ قُتِلْتَ، بَعَثَكَ اللّٰهُ عَلٰى تِلْكَ الْحَالِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عبد الله بن عمرو أنه قال: يا رسول الله! أخبرني عن الجهاد فقال: "يا عبد الله بن عمرو! إن قاتلت صابرا محتسبا بعثك الله صابرا محتسبا، وإن قاتلت مرائيا مكاثرا بعثك الله مرائيا مكاثرا،يا عبد الله بن عمرو! على أي حال قاتلت أو قتلت، بعثك الله على تلك الحال". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن عمرو سے انہوں نے عرض کیا یارسول(صلی اللہ علیہ) و سلم مجھے جہاد کے متعلق خبر دیجئے ۱؎تو فرمایا اے عبدابن عمرو ۲؎اگر تم صابر بن کر طلب اجرکرتے ہوئے جہادکرو گے توتعالٰی تم کو صبروالا طالب اجر ہی اٹھائے گا۳؎اور اگر تم ریاکار اور زیادتی کی ہوس سے جہادکرو گے توتم کو ریا کار ہوس والا اٹھائے گا ۴؎اے عبدابن عمرو جس حال پر جنگ کرو گے یا مارے جاؤ گے تم کواس حال پر اٹھائے گا ۵؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ جہاد کی تفصیل اور تفضیل(فضیلت)بتایئے یا اس کی حقیقت پر مطلع فرمایئے یا جہاد مقبول و نامقبول کے متعلق خبر دیجئے۔جواب شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ سوال تیسری بات کے متعلق تھا کہ جہاد مقبول کون سا ہے اور جہا د مردود کون سا۔
۲
؎حضور انور نے انہیں اس لیے پکارا بغور جواب کو سنیں۔
۳
؎اس حدیث کی بنا پر صوفیاءکرام فرماتے ہیں جس حال جیو گے اسی حال میں مرو گے اور جس حال میں مروگے اسی حال میں اٹھو گے۔(مرقات)زندگی میں اچھا مشغلہ رکھو تاکہ اس مشغلہ میں موت آئے اور اسی حال میں حشر ہو،نمازی آدمی کو نزع و قبر میں بھی نماز ہی یاد آتی ہے جیساکہ بعض روایات میں بھی ہے اور دیکھا بھی گیا هےتعالٰی انجام بخیر کرے۔
۴
؎یعنی اگر تم نام اور مال کی خواہش کے لیے جہاد کرو گے اسی فکر میں مارے جاؤ گے تو قیامت میں اس کی سزا میں گرفتار اٹھوگے لہذا دنیا میں آخرت کی فکر کرو تاکہ آخرت میں بے فکر اٹھو،دنیا کی ناجائز فکر میں نہ ادبال ہو۔
۵
؎جہاد کے علاوہ باقی اعمال کا بھی یہ ہی حال ہے،اتعالٰی اس فقیر گنہگار کو دینی خدمت کا مشغلہ نصیب کرے،قبول فرمائے،اس میں موت دے اور دین کے خادموں کے زمرے میں حشر نصیب کرے،سنا ہے اچھوں کے ساتھی بھی بخشے جاتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3847