Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3813

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهٖ نَفْسَهٗ مَاتَ عَلٰى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من مات ولم يغز ولم يحدث به نفسه مات على شعبة من نفاق". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے جو مرجائے اور نہ تو جہاد کرے ۱؎ا ور نہ اپنے دل میں اس کا خیال کرے ۲؎تو نفاق کے حصے پر مرے گا ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یا اس طرح کہ اس کی زندگی میں جہاد ہوا ہی نہیں یا اس طرح کہ جہاد تو ہو مگر یہ شریک نہ ہو یا نہ ہوسکے غرضیکہ اس فرمان عالی کی کئی صورتیں ہیں۔
۲
؎نفسہسے پہلےفیپوشیدہ ہے اور خیال کرنے سے مراد یا جہاد کی تمنا کرنا ہے یا تیاری جہاد کرنا ہے پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں نیکی کی تمنا بھی باعث ثواب ہے گناہ کی تمنا بھی گناہ۔
۳
؎یعنی ایسا آدمی منافق سے مشابہ ہوگا جو جہاد سے بہت بچتے تھے اور جو کسی قوم سے مشابہت رکھے وہ اسی قوم سے شمار ہوتا ہے۔حضرت عبدابن مبارک وغیرہ محدثین نے فرمایا کہ یہ فرمان عالی زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق ہے کہ اس زمانہ میں جہاد سے بے گانہ رہنا منافقین کی علامت۔(مرقات و نووی) جیسے حدیث پاک میں ہے"من ترك الصلوۃ متعمدًا فقد کفر" جو دانستہ طور پر نماز چھوڑے کافر ہے،یہ بھی اسی زمانہ پاک کے متعلق ہے کہ اس زمانہ میں بے نمازی ہونا کفار کا نشان تھا،فرماتے ہیں کہ مؤمن اور کافر کے درمیان فرق نماز ہے،بعض محدثین فرماتے ہیں کہ یہ حکم ہر زمانہ کے متعلق ہے۔مطلب یہ ہے کہ جہاد کا خیال بھی دل میں نہ لانا نفاق پیدا کرتا ہے۔(مرقات) جیسے ارشاد ہوا کہ گانا بجانا بلکہ گانے کی آواز رغبت سے سننا دلی نفاق اس طرح پیدا کرتا ہے جیسے پانی کا سیل گھاس کو۔اسی حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ جہاد فرض عین ہے مگر حق یہ ہے کہ بعض حالات میں فرض عین ہوتا ہے اکثر حالات میں فرض کفایہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3813