Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3843

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ أَيُّوْبٍ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الأَمْصَارُ، وَسَتَكُوْنُ جُنُوْدُ مُجَنَّدَةٌ، يُقْطَعُ عَلَيْكُمْ فِيْهَا بُعُوْثٌ،فَيَكْرَهُ الرَّجُلُ الْبَعْثَ فَيَتَخَلَّصُ مِنْ قَوْمِهٖ، ثُمَّ يتَصَفَّحُ الْقَبَائِلَ يَعْرِضُ نَفْسَهٗ عَلَيْهِمْ مَنْ أَكْفِيْهِ بَعْثَ كَذَا، أَلَا وَذٰلِكَ الأَجِيْرُ إِلَى آخِرِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهٖ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي أيوب سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: "ستفتح عليكم الأمصار، وستكون جنود مجندة، يقطع عليكم فيها بعوث،فيكره الرجل البعث فيتخلص من قومه، ثم يتصفح القبائل يعرض نفسه عليهم من أكفيه بعث كذا، ألا وذلك الأجير إلى آخر قطرة من دمه". رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ایوب سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تم پر بہت شہر فتح کیے جائیں گے اور ہوں گے لشکر جمع کیے ہوئے ۱؎ان لشکروں میں کچھ فوجیں مقررکر دی جائیں گی ۲؎تو ایک شخص جہاد میں بھیجے جانے کو ناپسند کرے گا۳؎وہ اپنی قوم سے بھاگ جائے گا ۴؎پھر وہ قبیلوں کو تلاش کرے گا اپنے آپ کو ان پر پیش کرے گا ۵؎کہ میں فلاں لشکر میں کس کو کفایت کروں ۶؎اوریہ اپنے خون کے آخری قطرہ تک مزدور ہوگا ۷؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ابھی تو اسلامی ممالک کا رقبہ بہت محدودہے،عنقریب وقت آنے والا ہے کہتعالٰی مسلمانوں کو بہت بڑے بڑے ملک عطا فرمائے گا،اسلامی ممالک بہت ہوجائیں گے تو خلیفۃ المسلمین ہر ملک کے لیے علیٰحدہ علیٰحدہ یا فوجیں مقرر فرمائے گا تاکہ ہر جگہ کفار کا مقابلہ ہوتا رہے جس قدر ملک وسیع ہوتا ہے اسی قدر فوج زیادہ رکھنی پڑتی ہے،یہ غیبی خبر ہے جوکے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے دی اور عہدِ فاروقی سے اس کا ظہور شروع ہوا۔
۲
؎یعنی سلطان اسلام بڑے لشکر کے مختلف حصے کرکے علیٰحدہ علیٰحدہ ممالک میں بھیجے گا۔جنودسے مراد بڑے بڑے لشکر ہیں اور جو ہیڈکوارٹروں میں رہیں اوربعوثسے مراد چھوٹی چھوٹی فوجیں ہیں جو الگ الگ سرحدوں پر حفاظت کے لیے مقرر کی جائیں۔
۳
؎یعنی اس زمانہ میں عمومًا مسلمان فی سبیلجہاد پر تیار ہوں گے مگر خال خال کوئی آدمی بغیر اجرت لیے جہاد میں جانے پر آمادہ نہ ہوں گے۔بعث سے مراد بلا اجرت جہاد میں بھیجا جانا ہے۔الرجلفرماکر بتایا کہ یہ مزدوری لینے کا شوق خال خال کسی میں ہوگا۔
۴
؎اس لیے بھاگے گا کہ اسے بغیر اجرت جہاد میں نہ جانا پڑے۔
۵
؎یعنی یہاں سے بھاگ جانے کے بعد مختلف قبیلوں خاندانوں میں پھرے گا ان سے ملے گا،کیوں،اجرت و مزدوری کی تلاش کے لیے۔
۶
؎یعنی لوگوں سے یہ کہتا پھرے کہ کون مجھے سامان جہاد اور مزدوری دیدے تو میں اس کی طرف سے جہاد کروں وہ آرام کرے مجھے روپیہ دے کر اپنی طرف سے جہاد میں بھیج دے۔
۷
؎یعنی ایسا شخص جسے جہاد سے کوئی رغبت نہ ہو صرف مال پر نظر ہو اور جہاد میں شرکت کو صرف مال حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے اسے جہاد کا کوئی ثواب نہ ملے گا،یہ آخر دم تک صرف مزدور رہے گا غازی فی سبیلنہ ہوگا اور نہ جہاد کے ثواب کا مستحق ہوگا۔یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ جہاد پر اجرت دینی لینی جائز ہے کیونکہ مزدور کو حضور نے گنہگار نہ فرمایا ثواب سے محروم فرمایا وہ بھی اس لیے کہ اس کا مقصود صرف مال تھا،نیز مال دینے والے کو بھی گنہگار نہ فرمایا بلکہ اسے ثواب جہاد پانے والا قرار دیا کہ ثواب سے محروم صرف مزدور کو بتایا نہ کہ مال دینے والے کو۔ذالكمبتدا ہے اورالاجیراس کی خبر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3843