Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3789

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "انْتَدَبَ اللّٰهُ لِمَنْ خَرَجَ فِيْ سَبِيْلِهَ، لَا يُخْرِجُهٗ إِلَّا إِيْمَانٌ بِيْ وَتَصْدِيْق بِرُسُلِيْ أَنْ أَرْجِعَهٗ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيْمَةٍ أَوْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "انتدب الله لمن خرج في سبيله، لا يخرجه إلا إيمان بي وتصديق برسلي أن أرجعه بما نال من أجر أو غنيمة أو أدخله الجنة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نےضامن ہوچکا اس کا جو اس کی راہ میں نکلا ۱؎اسے نہ نکالے مگر مجھ پر ایمان اورمیرے رسول کی تصدیق۲؎نہ کرادے وہ ثواب یا غنیمت کے ساتھ لوٹاؤں جو وہ حاصل کرے یا اسے جنت میں داخلہ دے دوں ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎غالب یہ ہے کہ سبیل سے مراد راہ جہاد ہے اسی لیے مؤلف یہ حدیث جہاد کے بیان میں لائے۔ہوسکتا ہے کہ اس جہاد سے طلب علم،عمرہ و حج کے تمام سفر مراد ہوں مگر پہلی توجیہ زیادہ صحیح ہے کہ اگلا مضمون اس کی تائید کررہا ہے اور رب کی یہ ضمانت کرم کی ضمانت ہے۔
۲
؎چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تصدیق تمام رسولوں کی تصدیق ہے اس لیے اس جملے میں ارشاد ہوا جس کے پاس سو ہیں اس کے پاس ساری اکائیاں دہائیاں ہیں۔
۳
؎او ادخلہکاعطفارجعہپر ہے یعنی اگر غازی جیت کر لوٹا تو غنیمت و ثواب سب کچھ لے آیا،اگر شکست کھا گیا تو ثواب کے ساتھ لوٹا،اگر شہید ہوگیا تو جنت میں گیا ہر طرح نفع میں ہے۔مثل مشہور ہے کہ لٹ گئے تو روزہ،لوٹ لائے تو عید،مار آئے تو غازی،مر گئے تو شہید۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3789