Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3859

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اَلْقَتْلٰى ثَلَاثَةٌ: مُؤْمِنٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهٖ وَمَالِهٖ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ، فَإِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حتّٰى يُقْتَلَ"، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْهِ: "فَذٰلِكَ الشَّهِيْدُ الْمُمْتَحَنُ فِيْ خَيْمَةِ اللّٰهِ تَحْتَ عَرْشِهٖ لَا يَفْضُلُهُ النَّبِيُّوْنَ إِلَّا بِدَرَجَةِ النُّبُوَّةِ،وَمُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا جَاهَدَ بِنَفْسِهٖ وَمَالِهٖ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ، إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حتّٰى يُقْتَلَ"، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْهِ: "مُمَصْمِصَةٌ مَحَتْ ذُنُوْبَهٗ وَخَطَايَاهُ إِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءٌ لِلْخَطَايَا، وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ، وَمُنَافِقٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهٖ وَمَالِهٖ، فَإِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حتّٰى يُقْتَلَ فَذَاكَ فِي النَّارِ، إِنَّ السَّيْفَ لَا يَمْحُو النِّفَاقَ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.

وعن عتبة بن عبد السلمي قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم: "القتلى ثلاثة: مؤمن جاهد بنفسه وماله في سبيل الله، فإذا لقي العدو قاتل حتى يقتل"، قال النبي صلى الله عليه وسلم فيه: "فذلك الشهيد الممتحن في خيمة الله تحت عرشه لا يفضله النبيون إلا بدرجة النبوة،ومؤمن خلط عملا صالحا وآخر سيئا جاهد بنفسه وماله في سبيل الله، إذا لقي العدو قاتل حتى يقتل"، قال النبي صلى الله عليه وسلم فيه: "ممصمصة محت ذنوبه وخطاياه إن السيف محاء للخطايا، وأدخل من أي أبواب الجنة شاء، ومنافق جاهد بنفسه وماله، فإذا لقي العدو قاتل حتى يقتل فذاك في النار، إن السيف لا يمحو النفاق". رواه الدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عتبہ ابن عبدسلمی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مقتولین تین طرح کے ہیں وہ مؤمن جو اپنی جان و مال سے راہِ خدا میں جہاد کرے پھر جب دشمن سے ملے تو جہاد کرے حتی کہ قتل کیا جائے ۲؎فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے باے میں کہ یہکی رحمت میں ہے پاک و صاف کیا ہوا۳؎عرش کے نیچےکے خیمہ میں۴؎نہیں بڑھے اس پر حضرات انبیاء مگر نبوت کے درجہ کی وجہ سے ۵؎اور ایک وہ مؤمن جس نے اچھے برے مخلوط کام کیے ۶؎اس نے اپنی جان اور مال سے راہ خدا میں جہاد کیا جب دشمن سے ملا تو جہاد کیا حتی کہ قتل کردیا گیا فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس شہادت میں صفائی ہے۷؎اس کے گناہ اور خطائیں مٹادیں ۸؎تلوار خطاؤں کو مٹانے والی ہے ۹؎اور وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل کیا جا ئے گا ۱۰؎اور ایک منافق جو اپنے جان و مال سے جہاد کرے پھر جب دشمن سے ملے تو قتال کرے حتی کہ قتل کیا جائے تو یہ دوزخ میں ہے ۱۱؎کیونکہ تلوار نفاق کو نہیں مٹاتی ۱۲؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎عتبہعین کے پیش اور ت کے جزم سے آپ کا نام عتلہ تھا،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے عتبہ رکھا،غزوہ خیبر میں شریک ہوئے، مقام حمص میں چورانوے سال کی عمر میں، ۷۸ھ؁ ∞ میں وفات پائی،بقول واقدی آپ شام کے آخری صحابی ہیں۔
۲
؎اس فرمان عالی میں مؤمن سے مراد متقی پرہیزگار مؤمن ہے اور اگلے اوصاف سے مراد ہے جان و مال راہ خدا میں خرچ کرنا بہادر ہونا،صابر ہونا یہ ہے اول درجے کا شہید۔
۳
؎ممتحنکے چند معنی ہیں وہ سب یہاں بن سکتے ہیں (۱) آزمایا ہوا،امتحان لیا ہوا(۲)پاس شدہ کامیاب
(۳)سینہ کھولا،شرح صدر والا(۴)پاک و صاف کیا ہوا جیسے بھٹی کے ذریعہ لوہا پاک کیا جاتا ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ امْتَحَنَ اللہُ قُلُوۡبَہُمْ لِلتَّقْوٰی"اس آیت کی تفسیر میں علماء نے امتحان کے بہت معانی بیان فرمائے ہیں۔
۴
؎یعنی ایسے شہید کو مرتے ہی رب تعالٰی سے اس قدر قرب نصیب ہوتا ہے جو دوسروں کو میسر نہیں ہوتا۔خیمہ سے مراد نوری مقام ہے اس کی حقیقت رب ہی جانے۔
۵
؎یعنی اگر حضرات انبیاء نبی نہ ہوتے تو شہید ان کے برابر ہوجاتے مگر چونکہ وہ حضرات نبی ہیں اس وجہ سے وہ ان شہیدوں سے اعلیٰ وافضل ہیں۔خیال رہے کہ نبی غیر نبی سے کروڑوں درجہ اعلیٰ ہے اور نبی کا ہر عمل غیر کی ہر نیکی سے کروڑوں گنا زیادہ ہے،جب صحابی کا دو چار سیر جَو خیرات کرنا غیرصحابی کے پہاڑ بھر سونا خیرات کرنے سے افضل ہے تو نبی کی شان کا کیا کہنا،یہ فرمان ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے انسان دوسرے جانوروں سے صرف ناطق ہونے میں اعلیٰ ہے تو جیسے ناطق نے انسان کو جانوروں سے ذاتی طور پر ممتاز کردیا کہ یہ اشرف المخلوقات ہوگیا ایسے ہی نبی کو نبوت نے ذاتی حیثیت سے امتیاز بخش دیا،رب تعالٰی فرماتاہے:"قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ"کی قید نے بھی ایسا ہی فرق کردیا لہذا ان جیسی آیات و احادیث دیکھ کر دھوکا نہیں کھانا چاہیے اور حضرات انبیاءکرام سے ہمسری کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے،اس بھنور میں بہت سے بیڑے غرق ہوچکے ہیں،نبی کا ادب روح ایمان ہے۔(از اشعۃ اللمعات مع الزیادۃ)
۶
؎یہ دوسرے درجہ کا متقی نہیں زندگی میں گناہ بھی کرتا رہا ہے۔
۷
؎فیہکا مرجع یا وہ شخص ہے اورمصمصۃخبر ہے مبتداء پوشیدہ کی یعنی اس شہید کے بارے میں حضور نے فرمایا کہ اس کا معاملہ صفائی کا ہے،یافیہکا مرجع جہاد و شہادت ہے یہ خبر مقدم ہے اورمصمصۃمبتداء مؤخر یعنی اس جہاد میں یا اس شہادت میں صفائی ہےمصمصہ مضمضہکی طرح ہے جس کے معنی ہیں منہ میں پانی لے کر کلی کرنا جیسے کہ ا یسی کلی منہ کو پاک صاف کردیتی ہے یوں ہی یہ شہادت اس کے سارے گناہوں کو مٹا دیتی ہے اس کا بیان اگلے فرمان عالی میں ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ شہادت تمام گناہوں سے مؤمن کو پاک و صاف کردیتی ہے۔
۸
؎یعنی شہادت نے اس کی زندگی بھر کی خطائیں ختم کردیں۔
۹
؎تلوار تمام گناہ صغیرہ کو تو مٹا دیتی ہے گناہ کبیرہتعالٰی کے کرم پر ہیں حقوق العباد شاید رب تعالٰی قیامت میں صاحبِ حق سے معاف کرادے جیساکہ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔اس حدیث میںخطایافرما کر اسی جانب اشارہ ہے۔عمومًا خطا کہتے ہیں صغیرہ گناہ کو جس کا تعلق بندے کے حق سے نہ ہو لہذا شہید کے ذمہ جو لوگوں کے قرض وغیرہ ہوں وہ ادا کرنے ہوں گے،حدیث واضح ہے۔اسی حدیث کی بنا پر امام شافعی کہتے ہیں کہ شہید پر نماز جنازہ نہ پڑھی جائے کیونکہ نماز جنازہ میت کے گناہ مٹانے کے لیے ہوتی ہے شہید کے گناہ تو تلوار سے مٹ چکے اب نماز کیوں پڑھی جائے،امام اعظم فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ شرافت انسانی کے اظہار کے لیے ہے شہید اس کا زیادہ حقدار ہے،دیکھو نابالغ بچوں پر نماز پڑھی جاتی ہے حالانکہ وہ بے گناہ ہیں، حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر نماز پڑھی گئی حالانکہ حضور معصوم ہیں خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے شہداء پر نماز پڑھی حتی کہ شہدا احد پر چند سال بعد نماز پڑھی اس کی بحث پہلے ہوچکی۔
۱۰
؎یعنی دوسرے جنتی مسلمانوں کے لیے دروازے مقرر ہیں کہ روزہ دار باب ریان سے جائیں نمازی فلاں دروازے سے مگر شہید کے لیے کوئی قید نہیں جس دروازے سے جانا چاہے جائے یہ اجازت اس کی شان ظاہر کرنے کے لیے ہوگی۔
۱۱
؎یعنی جو اعتقادی منافق بطور نفاق جہاد میں چلا جائے اور وہاں اسے سب کچھ خرچ کرنا پڑ جائے اور شہید بھی ہوجائے تب بھی وہ دوزخی ہے کیونکہ جنتی ہونے کے لیے ایمان شرط ہے۔خیال رہے کہ منافقین اپنا نفاق چھپانے کیلیے کبھی جہاد میں بھی چلے جاتے تھے۔
۱۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ کسی نیکی سے منافق جنتی نہیں ہوسکتاتعالٰی فاجر آدمی سے بھی اپنے دین کو قوت دیتا ہے لہذا سب سے پہلے عقائد کی اصلاح ضروری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3859