- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3859
باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3859
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 3787
- 3788
- 3789
- 3790
- 3791
- 3792
- 3793
- 3794
- 3795
- 3796
- 3797
- 3798
- 3799
- 3800
- 3801
- 3802
- 3803
- 3804
- 3805
- 3806
- 3807
- 3808
- 3809
- 3810
- 3811
- 3812
- 3813
- 3814
- 3815
- 3816
- 3817
- 3818
- 3819
- 3820
- 3821
- 3822
- 3823
- 3824
- 3825
- 3826
- 3827
- 3828
- 3829
- 3830
- 3831
- 3832
- 3833
- 3834
- 3835
- 3836
- 3837
- 3838
- 3839
- 3840
- 3841
- 3842
- 3843
- 3844
- 3845
- 3846
- 3847
- 3848
- 3849
- 3850
- 3851
- 3852
- 3853
- 3854
- 3855
- 3856
- 3857
- 3858
- 3859
- 3860
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اَلْقَتْلٰى ثَلَاثَةٌ: مُؤْمِنٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهٖ وَمَالِهٖ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ، فَإِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حتّٰى يُقْتَلَ"، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْهِ: "فَذٰلِكَ الشَّهِيْدُ الْمُمْتَحَنُ فِيْ خَيْمَةِ اللّٰهِ تَحْتَ عَرْشِهٖ لَا يَفْضُلُهُ النَّبِيُّوْنَ إِلَّا بِدَرَجَةِ النُّبُوَّةِ،وَمُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا جَاهَدَ بِنَفْسِهٖ وَمَالِهٖ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ، إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حتّٰى يُقْتَلَ"، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْهِ: "مُمَصْمِصَةٌ مَحَتْ ذُنُوْبَهٗ وَخَطَايَاهُ إِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءٌ لِلْخَطَايَا، وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ، وَمُنَافِقٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهٖ وَمَالِهٖ، فَإِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حتّٰى يُقْتَلَ فَذَاكَ فِي النَّارِ، إِنَّ السَّيْفَ لَا يَمْحُو النِّفَاقَ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
وعن عتبة بن عبد السلمي قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم: "القتلى ثلاثة: مؤمن جاهد بنفسه وماله في سبيل الله، فإذا لقي العدو قاتل حتى يقتل"، قال النبي صلى الله عليه وسلم فيه: "فذلك الشهيد الممتحن في خيمة الله تحت عرشه لا يفضله النبيون إلا بدرجة النبوة،ومؤمن خلط عملا صالحا وآخر سيئا جاهد بنفسه وماله في سبيل الله، إذا لقي العدو قاتل حتى يقتل"، قال النبي صلى الله عليه وسلم فيه: "ممصمصة محت ذنوبه وخطاياه إن السيف محاء للخطايا، وأدخل من أي أبواب الجنة شاء، ومنافق جاهد بنفسه وماله، فإذا لقي العدو قاتل حتى يقتل فذاك في النار، إن السيف لا يمحو النفاق". رواه الدارمي.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عتبہ ابن عبدسلمی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مقتولین تین طرح کے ہیں وہ مؤمن جو اپنی جان و مال سے راہِ خدا میں جہاد کرے پھر جب دشمن سے ملے تو جہاد کرے حتی کہ قتل کیا جائے ۲؎فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے باے میں کہ یہﷲکی رحمت میں ہے پاک و صاف کیا ہوا۳؎عرش کے نیچےﷲکے خیمہ میں۴؎نہیں بڑھے اس پر حضرات انبیاء مگر نبوت کے درجہ کی وجہ سے ۵؎اور ایک وہ مؤمن جس نے اچھے برے مخلوط کام کیے ۶؎اس نے اپنی جان اور مال سے راہ خدا میں جہاد کیا جب دشمن سے ملا تو جہاد کیا حتی کہ قتل کردیا گیا فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس شہادت میں صفائی ہے۷؎اس کے گناہ اور خطائیں مٹادیں ۸؎تلوار خطاؤں کو مٹانے والی ہے ۹؎اور وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل کیا جا ئے گا ۱۰؎اور ایک منافق جو اپنے جان و مال سے جہاد کرے پھر جب دشمن سے ملے تو قتال کرے حتی کہ قتل کیا جائے تو یہ دوزخ میں ہے ۱۱؎کیونکہ تلوار نفاق کو نہیں مٹاتی ۱۲؎(دارمی)
شرح حدیث
۱∞؎عتبہعین کے پیش اور ت کے جزم سے آپ کا نام عتلہ تھا،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے عتبہ رکھا،غزوہ خیبر میں شریک ہوئے، مقام حمص میں چورانوے سال کی عمر میں، ۷۸ھ ∞ میں وفات پائی،بقول واقدی آپ شام کے آخری صحابی ہیں۔
۲؎اس فرمان عالی میں مؤمن سے مراد متقی پرہیزگار مؤمن ہے اور اگلے اوصاف سے مراد ہے جان و مال راہ خدا میں خرچ کرنا بہادر ہونا،صابر ہونا یہ ہے اول درجے کا شہید۔
۳؎ممتحنکے چند معنی ہیں وہ سب یہاں بن سکتے ہیں (۱) آزمایا ہوا،امتحان لیا ہوا(۲)پاس شدہ کامیاب
(۳)سینہ کھولا،شرح صدر والا(۴)پاک و صاف کیا ہوا جیسے بھٹی کے ذریعہ لوہا پاک کیا جاتا ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ امْتَحَنَ اللہُ قُلُوۡبَہُمْ لِلتَّقْوٰی"اس آیت کی تفسیر میں علماء نے امتحان کے بہت معانی بیان فرمائے ہیں۔
۴؎یعنی ایسے شہید کو مرتے ہی رب تعالٰی سے اس قدر قرب نصیب ہوتا ہے جو دوسروں کو میسر نہیں ہوتا۔خیمہ سے مراد نوری مقام ہے اس کی حقیقت رب ہی جانے۔
۵؎یعنی اگر حضرات انبیاء نبی نہ ہوتے تو شہید ان کے برابر ہوجاتے مگر چونکہ وہ حضرات نبی ہیں اس وجہ سے وہ ان شہیدوں سے اعلیٰ وافضل ہیں۔خیال رہے کہ نبی غیر نبی سے کروڑوں درجہ اعلیٰ ہے اور نبی کا ہر عمل غیر کی ہر نیکی سے کروڑوں گنا زیادہ ہے،جب صحابی کا دو چار سیر جَو خیرات کرنا غیرصحابی کے پہاڑ بھر سونا خیرات کرنے سے افضل ہے تو نبی کی شان کا کیا کہنا،یہ فرمان ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے انسان دوسرے جانوروں سے صرف ناطق ہونے میں اعلیٰ ہے تو جیسے ناطق نے انسان کو جانوروں سے ذاتی طور پر ممتاز کردیا کہ یہ اشرف المخلوقات ہوگیا ایسے ہی نبی کو نبوت نے ذاتی حیثیت سے امتیاز بخش دیا،رب تعالٰی فرماتاہے:"قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ"کی قید نے بھی ایسا ہی فرق کردیا لہذا ان جیسی آیات و احادیث دیکھ کر دھوکا نہیں کھانا چاہیے اور حضرات انبیاءکرام سے ہمسری کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے،اس بھنور میں بہت سے بیڑے غرق ہوچکے ہیں،نبی کا ادب روح ایمان ہے۔(از اشعۃ اللمعات مع الزیادۃ)
۶؎یہ دوسرے درجہ کا متقی نہیں زندگی میں گناہ بھی کرتا رہا ہے۔
۷؎فیہکا مرجع یا وہ شخص ہے اورمصمصۃخبر ہے مبتداء پوشیدہ کی یعنی اس شہید کے بارے میں حضور نے فرمایا کہ اس کا معاملہ صفائی کا ہے،یافیہکا مرجع جہاد و شہادت ہے یہ خبر مقدم ہے اورمصمصۃمبتداء مؤخر یعنی اس جہاد میں یا اس شہادت میں صفائی ہےمصمصہ مضمضہکی طرح ہے جس کے معنی ہیں منہ میں پانی لے کر کلی کرنا جیسے کہ ا یسی کلی منہ کو پاک صاف کردیتی ہے یوں ہی یہ شہادت اس کے سارے گناہوں کو مٹا دیتی ہے اس کا بیان اگلے فرمان عالی میں ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ شہادت تمام گناہوں سے مؤمن کو پاک و صاف کردیتی ہے۔
۸؎یعنی شہادت نے اس کی زندگی بھر کی خطائیں ختم کردیں۔
۹؎تلوار تمام گناہ صغیرہ کو تو مٹا دیتی ہے گناہ کبیرہﷲتعالٰی کے کرم پر ہیں حقوق العباد شاید رب تعالٰی قیامت میں صاحبِ حق سے معاف کرادے جیساکہ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔اس حدیث میںخطایافرما کر اسی جانب اشارہ ہے۔عمومًا خطا کہتے ہیں صغیرہ گناہ کو جس کا تعلق بندے کے حق سے نہ ہو لہذا شہید کے ذمہ جو لوگوں کے قرض وغیرہ ہوں وہ ادا کرنے ہوں گے،حدیث واضح ہے۔اسی حدیث کی بنا پر امام شافعی کہتے ہیں کہ شہید پر نماز جنازہ نہ پڑھی جائے کیونکہ نماز جنازہ میت کے گناہ مٹانے کے لیے ہوتی ہے شہید کے گناہ تو تلوار سے مٹ چکے اب نماز کیوں پڑھی جائے،امام اعظم فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ شرافت انسانی کے اظہار کے لیے ہے شہید اس کا زیادہ حقدار ہے،دیکھو نابالغ بچوں پر نماز پڑھی جاتی ہے حالانکہ وہ بے گناہ ہیں، حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر نماز پڑھی گئی حالانکہ حضور معصوم ہیں خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے شہداء پر نماز پڑھی حتی کہ شہدا احد پر چند سال بعد نماز پڑھی اس کی بحث پہلے ہوچکی۔
۱۰؎یعنی دوسرے جنتی مسلمانوں کے لیے دروازے مقرر ہیں کہ روزہ دار باب ریان سے جائیں نمازی فلاں دروازے سے مگر شہید کے لیے کوئی قید نہیں جس دروازے سے جانا چاہے جائے یہ اجازت اس کی شان ظاہر کرنے کے لیے ہوگی۔
۱۱؎یعنی جو اعتقادی منافق بطور نفاق جہاد میں چلا جائے اور وہاں اسے سب کچھ خرچ کرنا پڑ جائے اور شہید بھی ہوجائے تب بھی وہ دوزخی ہے کیونکہ جنتی ہونے کے لیے ایمان شرط ہے۔خیال رہے کہ منافقین اپنا نفاق چھپانے کیلیے کبھی جہاد میں بھی چلے جاتے تھے۔
۱۲؎اس سے معلوم ہوا کہ کسی نیکی سے منافق جنتی نہیں ہوسکتاﷲتعالٰی فاجر آدمی سے بھی اپنے دین کو قوت دیتا ہے لہذا سب سے پہلے عقائد کی اصلاح ضروری ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3859