Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3818

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْفَتْح: "لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْح، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنجيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوْا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال يوم الفتح: "لا هجرة بعد الفتح، ولكن جهاد ونجية، وإذا استنفرتم فانفروا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ہیں کہ حضور نے فتح مکہ کے دن فرمایا کہ فتح کے بعد ہجرت نہیں ۱؎لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تم کو جہاد کے لیے نکالا جائے تو نکل جاؤ ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی فتح مکہ کے بعد مکہ معظمہ سے ہجرت کرجانا ضروری نہیں کیونکہ اب مکہ معظمہ میں مشرکین نہیں،اب وہاں مسلمانوں کو مذہبی آزادی ہے یہ مطلب نہیں کہ کسی جگہ سے کبھی ہجرت نہیں ہوگی۔لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں۔جن میں ارشاد ہے کہ ہجرت تاقیامت جاری ہے۔خیال رہے کہ دارالکفر سے جہاں اسلامی آزادی بالکل نہ ہو،ہجرت کر جانا فرض ہے بشرطیکہ طاقت ہو اور جہالت کی جگہ سے علم کی جگہ گناہوں کی جگہ سے توبہ کی جگہ ہجرت کرجانا مستحب ہے۔(مرقات)
۲
؎یعنی اگر جہاد کبھی فرض ہوجائے اور اسلامی حکومت کی طرف سے اعلان عام ہو تو جہاد کے لیے نکلنا فرض ہے یہ حکم وجوبی ہے اور اس وقت کے لیے ہے کہ جب جہاد فرض عین ہوچکا ہو اس لیے صیغہ جمع ارشاد ہوا یعنی سب نکل جاؤ،رب فرماتاہے:"اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ" ۔خیال رہے کہ نیت سے مراد ہے ازروئے جہادکرنا یا ارادۂ جہاد۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3818