Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3819

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِيْ يُقَاتِلُوْنَ عَلَى الْحَقِّ، ظَاهِرِيْنَ عَلٰى مَنْ نَاوَأَهُمْ حتّٰى يُقَاتِلَ آخِرُهُمُ الْمَسِيْحَ الدَّجَّالَ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُد.

عن عمران بن حصين قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تزال طائفة من أمتي يقاتلون على الحق، ظاهرين على من ناوأهم حتى يقاتل آخرهم المسيح الدجال". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے میری امت میں ایک گروہ حق پر جہاد کرتا رہے گا ۱؎ان پر غالب رہے گا جو ان سے دشمنی رکھے ۲؎حتی کہ اس کے آخری لوگ مسیح دجال سے جنگ کریں گے ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اسلام میں جہاد ہوتا رہے گا،کبھی منسوخ نہ ہوگا جو جہاد کا حکم منسوخ مانے وہ کافر ہے جیسے وہ جو نماز یا زکوۃ و حج وغیرہ کو منسوخ ماننے والا کافر ہے۔
۲
؎ناویبنا ہےمناواتسے بمعنی معادات و دشمنی کرنا،نوءسے بنا بمعنی اٹھنا،یہاں مراد ہے کسی کے مقابلہ کے لیے اٹھنا،میدان میں آنا،اس میں غیبی خبر ہے کہتعالٰی مجاہد مسلمانوں کو کفار پر غلبہ دیتا رہے گا،اگر کبھی مغلوب ہوجاؤ تو یہ مغلوبیت اتفاقی ہوگی یا اپنی کسی غلطی کی بنا پر۔
۳
؎یہاں آخری لوگ سے مراد حضرت امام مہدی و جناب عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھی مسلمان ہیں۔دجال کو مسیح اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ ممسوح العین کانا ہوگا۔یہ صفت مشبہ بمعنی مفعول ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مسیح اس لیے کہتے ہیں کہ مسیح یعنی چھوکر لاعلاج بیماروں کو اچھا کردیتے تھے۔وہاں صفت مشبہ بمعنی فاعل ہے ۔خیال رہے کہ دجال سے اس جہاد کے بعد دنیا میں کوئی کافر نہ رہے گا،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تک یہ ہی حال رہے گا آپ کی وفات کے بعد پھر کفر شروع ہوگا حتی کہ ایک ایسی ہوا چلے گی کہ ہر مؤمن کو وفات دے دے گی،صرف کفار ہی زمین پر رہ جائیں گے ان پر قیامت قائم ہوگی۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3819