Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3805

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ قَتَادَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِيْهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ أَنَّ الْجِهَادَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالإِيْمَانَ بِاللّٰهِ أَفْضَلُ الأَعْمَالِ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ يُكَفَّرُ عَنِّيْ خَطَايَايَ؟ فَقَالَ لَهٗ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "نَعَمْ إِنْ قُتِلْتَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ" ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "كَيْفَ قُلْتَ؟ " فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ أَيُكَفَّرُ عَنِّيْ خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "نَعَمْ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ إِلَّا الدَّيْنَ، فَإِنَّ جِبْرِيْلَ قَالَ لِيْ ذٰلِكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي قتادة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام فيهم فذكر لهم أن الجهاد في سبيل الله والإيمان بالله أفضل الأعمال، فقام رجل فقال: يا رسول الله! أرأيت إن قتلت في سبيل الله يكفر عني خطاياي؟ فقال له رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "نعم إن قتلت في سبيل الله وأنت صابر محتسب مقبل غير مدبر" ثم قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "كيف قلت؟ " فقال: أرأيت إن قتلت في سبيل الله أيكفر عني خطاياي؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "نعم وأنت صابر محتسب مقبل غير مدبر إلا الدين، فإن جبريل قال لي ذلك". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ میں قیام فرمایا ۱؎تو ان سے ذکر فرمایا کہکی راہ میں جہاد اورپر ایمان لانا تمام اعمال میں افضل ہے ۲؎تو ایک شخص اٹھا پھر بولا یارسولفرمایئے اگر میںکی راہ میں قتل کیا جاؤں تو میرے تمام گناہ مٹادیئے جائیں گے۳؎تو اس سے رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہاں اگر توکی راہ میں قتل کیا جائے حالانکہ تو طالب ثواب ہو آگے جاتا ہو پیٹھ پھیرتا نہ ہو۴؎پھر رسولصلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا تو نے کیا کہا ۵؎وہ بولا کہ فرمایئے تو اگر میںکی راہ میں قتل کردیا جاؤں تو کیا میری خطائیں مٹادی جائیں گی تب رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہاں جب کہ تو صابر طالب اجر ہو،آگے بڑھتا ہوا ہو، پیچھے ہٹتا نہ ہو سوا قرض کے ۶؎کیونکہ مجھ سے جبریل نے یہ ہی کہا۷؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎وعظ فرمانے کے لیے یوں تو حضور کا ہر کلام وعظ تھا اور ہر مجلس مجلس وعظ تھی مگر بعض دفعہ اہتمامًا قیام فرماکر کلام فرمایا جاتا تھا یہ بھی ان ہی میں سے تھا۔
۲
؎خیال رہے کہ ایمان دل کا عمل ہے اور جہاد جسم کا عمل،ایمان تو مدار نجات ہے اور اعمال ظاہری ذریعہ ترقی درجات،بعض حالات میں جہاد نماز سے افضل ہوتا ہے اور عام حالات میں نماز جہاد سے افضل ہے،یہاں وہ ہی خاص حالات مراد ہیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں نماز کو افضل اعمال فرمایا گیا ہے۔
۳
؎حق یہ ہے کہ یہاںخطایاسے مراد سارے صغیرہ اور کبیرہ گناہ ہیں بلکہ تمام حقوقاور حقوق عباد جیسا کہ جواب سے ظاہر ہے۔
۴
؎یہاں تمام گناہوں کی معافی کے لیے دو قیدیں ارشاد ہوئیں:ایک اخلاص سے جہاد کرنا،دوسرے وہاں سے گھبرا کر نہ بھاگنا،سینہ میں تیر یا گولی کھانا۔یہاں پیٹھ پھیرنے سے مراد بزدلی کے طور پر بھاگنے کے ارادے سے پیٹھ پھیرنا ہے،اگر اکیلا رہ جانے والا غازی اپنے کیمپ کی طرف قوت حاصل کرنے کے لیے بھاگے یا جنگی چال کے طور پر پیچھے ہٹے تو اس کا یہ حکم نہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ"لہذا یہ حدیث آیت کے خلاف نہیں۔
۵
؎حضورصلی اللہ علیہ و سلم اس کا سوال بھول نہ گئے تھے،دوبارہ سوال کرنا اظہار اہتمام کے لیے ہے تاکہ اسے یہ جواب خوب یاد رہے۔ (مرقات)
۶
؎یہاں قرض کے متعلق شارحین کے کئی قول ہیں:بعض نے فرمایا کہ قرض سے مراد بندے کے سارے مارے ہوئے حقوق ہیں چوری،خیانت،غصب،قتل وغیرہ۔مرقات نے فرمایا کہ قرضہ سے وہ قرضہ مراد ہے جس کے ادا کرنے کی نیت نہ ہو،اگر ادا کرنے کی نیت تھی مگر موقعہ نہ ملا کہ شہید ہوگیا وہ قرض خود قرض خواہ سے معاف کرادیا جائے گا مگر دریا کا شہید اس کا قرضہ بھی معاف ہو جاتا ہے اور اس کی روح بلاواسطہ خود رب تعالٰی قبض فرماتاہے حضرت ملک الموت کے سپرد نہیں فرماتا۔(مرقاۃ)
۷
؎یعنی ابھی وحی الٰہی آئی جس میں مجھ سے یہ فرمایا گیا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور پر صرف قرآن کریم کی ہی وحی نہ ہوئی اس کے علاوہ اور بھی وحی ہوئی ہیں۔دوسرے یہ کہ ہر وحی کو صحابہ کرام دیکھا نہ کرتے تھے،بعض وقت ان حضرات نے وحی آتے دیکھی،بلکہ بعض اوقات جبرائیل امین کو بھی دیکھا اور بعض وقت کچھ بھی نہ دیکھا،رب تعالٰی نے اپنے محبوب سے باتیں کرلیں پاس والوں کو خبر بھی نہ ہوئی،اس وقت جو وحی آئی یہ اسی دوسری قسم کی تھی،بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ وحی پہلے آچکی تھی مگر یہ درست نہیں،ورنہ حضور صلیعلیہ وسلم اس سائل سے یہ پہلے ہی فرمادیتے دوبارہ بلانے اور سوال پوچھنے کی حاجت نہ ہوتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3805