- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3805
باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3805
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 3787
- 3788
- 3789
- 3790
- 3791
- 3792
- 3793
- 3794
- 3795
- 3796
- 3797
- 3798
- 3799
- 3800
- 3801
- 3802
- 3803
- 3804
- 3805
- 3806
- 3807
- 3808
- 3809
- 3810
- 3811
- 3812
- 3813
- 3814
- 3815
- 3816
- 3817
- 3818
- 3819
- 3820
- 3821
- 3822
- 3823
- 3824
- 3825
- 3826
- 3827
- 3828
- 3829
- 3830
- 3831
- 3832
- 3833
- 3834
- 3835
- 3836
- 3837
- 3838
- 3839
- 3840
- 3841
- 3842
- 3843
- 3844
- 3845
- 3846
- 3847
- 3848
- 3849
- 3850
- 3851
- 3852
- 3853
- 3854
- 3855
- 3856
- 3857
- 3858
- 3859
- 3860
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِيْ قَتَادَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِيْهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ أَنَّ الْجِهَادَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالإِيْمَانَ بِاللّٰهِ أَفْضَلُ الأَعْمَالِ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ يُكَفَّرُ عَنِّيْ خَطَايَايَ؟ فَقَالَ لَهٗ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "نَعَمْ إِنْ قُتِلْتَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ" ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "كَيْفَ قُلْتَ؟ " فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ أَيُكَفَّرُ عَنِّيْ خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "نَعَمْ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ إِلَّا الدَّيْنَ، فَإِنَّ جِبْرِيْلَ قَالَ لِيْ ذٰلِكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن أبي قتادة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام فيهم فذكر لهم أن الجهاد في سبيل الله والإيمان بالله أفضل الأعمال، فقام رجل فقال: يا رسول الله! أرأيت إن قتلت في سبيل الله يكفر عني خطاياي؟ فقال له رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "نعم إن قتلت في سبيل الله وأنت صابر محتسب مقبل غير مدبر" ثم قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "كيف قلت؟ " فقال: أرأيت إن قتلت في سبيل الله أيكفر عني خطاياي؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "نعم وأنت صابر محتسب مقبل غير مدبر إلا الدين، فإن جبريل قال لي ذلك". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ میں قیام فرمایا ۱؎تو ان سے ذکر فرمایا کہﷲکی راہ میں جہاد اورﷲپر ایمان لانا تمام اعمال میں افضل ہے ۲؎تو ایک شخص اٹھا پھر بولا یارسولﷲفرمایئے اگر میںﷲکی راہ میں قتل کیا جاؤں تو میرے تمام گناہ مٹادیئے جائیں گے۳؎تو اس سے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہاں اگر توﷲکی راہ میں قتل کیا جائے حالانکہ تو طالب ثواب ہو آگے جاتا ہو پیٹھ پھیرتا نہ ہو۴؎پھر رسولﷲصلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا تو نے کیا کہا ۵؎وہ بولا کہ فرمایئے تو اگر میںﷲکی راہ میں قتل کردیا جاؤں تو کیا میری خطائیں مٹادی جائیں گی تب رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہاں جب کہ تو صابر طالب اجر ہو،آگے بڑھتا ہوا ہو، پیچھے ہٹتا نہ ہو سوا قرض کے ۶؎کیونکہ مجھ سے جبریل نے یہ ہی کہا۷؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎وعظ فرمانے کے لیے یوں تو حضور کا ہر کلام وعظ تھا اور ہر مجلس مجلس وعظ تھی مگر بعض دفعہ اہتمامًا قیام فرماکر کلام فرمایا جاتا تھا یہ بھی ان ہی میں سے تھا۔
۲؎خیال رہے کہ ایمان دل کا عمل ہے اور جہاد جسم کا عمل،ایمان تو مدار نجات ہے اور اعمال ظاہری ذریعہ ترقی درجات،بعض حالات میں جہاد نماز سے افضل ہوتا ہے اور عام حالات میں نماز جہاد سے افضل ہے،یہاں وہ ہی خاص حالات مراد ہیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں نماز کو افضل اعمال فرمایا گیا ہے۔
۳؎حق یہ ہے کہ یہاںخطایاسے مراد سارے صغیرہ اور کبیرہ گناہ ہیں بلکہ تمام حقوقﷲاور حقوق عباد جیسا کہ جواب سے ظاہر ہے۔
۴؎یہاں تمام گناہوں کی معافی کے لیے دو قیدیں ارشاد ہوئیں:ایک اخلاص سے جہاد کرنا،دوسرے وہاں سے گھبرا کر نہ بھاگنا،سینہ میں تیر یا گولی کھانا۔یہاں پیٹھ پھیرنے سے مراد بزدلی کے طور پر بھاگنے کے ارادے سے پیٹھ پھیرنا ہے،اگر اکیلا رہ جانے والا غازی اپنے کیمپ کی طرف قوت حاصل کرنے کے لیے بھاگے یا جنگی چال کے طور پر پیچھے ہٹے تو اس کا یہ حکم نہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ"لہذا یہ حدیث آیت کے خلاف نہیں۔
۵؎حضورصلی اللہ علیہ و سلم اس کا سوال بھول نہ گئے تھے،دوبارہ سوال کرنا اظہار اہتمام کے لیے ہے تاکہ اسے یہ جواب خوب یاد رہے۔ (مرقات)
۶؎یہاں قرض کے متعلق شارحین کے کئی قول ہیں:بعض نے فرمایا کہ قرض سے مراد بندے کے سارے مارے ہوئے حقوق ہیں چوری،خیانت،غصب،قتل وغیرہ۔مرقات نے فرمایا کہ قرضہ سے وہ قرضہ مراد ہے جس کے ادا کرنے کی نیت نہ ہو،اگر ادا کرنے کی نیت تھی مگر موقعہ نہ ملا کہ شہید ہوگیا وہ قرض خود قرض خواہ سے معاف کرادیا جائے گا مگر دریا کا شہید اس کا قرضہ بھی معاف ہو جاتا ہے اور اس کی روح بلاواسطہ خود رب تعالٰی قبض فرماتاہے حضرت ملک الموت کے سپرد نہیں فرماتا۔(مرقاۃ)
۷؎یعنی ابھی وحی الٰہی آئی جس میں مجھ سے یہ فرمایا گیا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور پر صرف قرآن کریم کی ہی وحی نہ ہوئی اس کے علاوہ اور بھی وحی ہوئی ہیں۔دوسرے یہ کہ ہر وحی کو صحابہ کرام دیکھا نہ کرتے تھے،بعض وقت ان حضرات نے وحی آتے دیکھی،بلکہ بعض اوقات جبرائیل امین کو بھی دیکھا اور بعض وقت کچھ بھی نہ دیکھا،رب تعالٰی نے اپنے محبوب سے باتیں کرلیں پاس والوں کو خبر بھی نہ ہوئی،اس وقت جو وحی آئی یہ اسی دوسری قسم کی تھی،بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ وحی پہلے آچکی تھی مگر یہ درست نہیں،ورنہ حضور صلیﷲعلیہ وسلم اس سائل سے یہ پہلے ہی فرمادیتے دوبارہ بلانے اور سوال پوچھنے کی حاجت نہ ہوتی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3805