Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3788

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ الصَّائِم الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللّٰهِ، لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ حتّٰى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "مثل المجاهد في سبيل الله كمثل الصائم القائم القانت بآيات الله، لا يفتر من صيام ولا صلاة حتى يرجع المجاهد في سبيل الله". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نےکی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس کی سی ہے جو دن کا روزہ دار رات کو آیات الٰہی کی تلاوت کرنے والا ہو ۱؎نہ روزے سے تھکے نہ نماز سے ۲؎حتی کہکی راہ کا مجاہد لوٹ آوے(مسلم،بخاری)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎قانتبنا ہےقنوتسے،احادیث میں قنوت چند معنے میں استعمال ہوا ہے اطاعت،عاجزی،نماز،دعا،عبادت، قیام۔نماز کا قیام خاموشی۔یہاں قانت سے مراد عابد ہے یا قائم یا نمازی یعنی مجاہد غازی اگرچہ آرام کرے سوئے یا کوئی جائز کام کرے ثواب عبادت ہی پائے گا کیونکہ سفر جہاد ہی تو ہے جیسے روزہ ہر وقت منہ میں رہتا ہے اس لیے روزہ دار سوتے ہوئے بھی عابد ہے،ایسے ہی اس سفر میں بہرحال غازی رہتا ہے اس لیے کھاتے پیتے سوتے جاگتے عابد ہوتا ہے۔غازی کو بھی چاہیے کہ اس سفر میں ناجائز حرکت نہ کرےرسول سے شرم کرے،حضرات صحابہ رضی اللہ عنھم کی بحالت جنگ حالت یہ ہوتی تھی کہ منہ میں قرآن ہاتھ میں تلوار۔
۲
؎خیال رہے کہ یہ تشبیہ ثواب میں ہے نہ کہ عمل میں لہذا حدیث پر یہ اعتراض تھا کہ ہمیشہ روزے رکھنا اور تمام رات نماز قرآن پڑھنا بالکل نہ سونا تو ممنوع ہے کہ وہاں ممانعت اسی لیے تو ہے کہ انسان تھک کر بیمار ہوجائے گا پھر فرائض وواجبات سے بھی جاتا رہے گا،اگر کوئی شخص ہمیشہ کے روزے ساری رات نماز سے تھکن محسوس نہ کرے تو اس کے لیے ممانعت بھی نہیں۔اس لیے اس افصح الفصحاء صلی اللہ علی وسلم نے نہ تھکنے کے قید لگادی کہ فرمایالا یفتر۔۳؎یعنی یہ ثواب صرف میدان جنگ میں رہنے کے اوقات سے خاص نہیں بلکہ جاتے آتے سفر میں بھی ملتا ہے گھر واپس پہنچنے تک یہ ثواب ہے جہاد کرنے کا ثواب علیٰحدہ ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3788