Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3841

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "قَفْلَةٌ كَغَزْوَةٍ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "قفلة كغزوة". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن عمر سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا مجاہد کی واپسی جہاد کی طرح ہے ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی کی چند شرحیں ہیں:ایک یہ کہ غازی کا سفر جہاد سے اپنے وطن کی طرف لوٹنا بھی وہ ہی ثواب رکھتا ہے جو جہاد میں جانا رکھتا تھا۔دوسرے یہ کہ دشمن کو بہکانے کے لیے میدان جہاد سے واپس ہوجانا تاکہ دشمن مطمئن ہوکر تیاری جنگ ختم کردےپھر اچانک پلٹ کر اس پر حملہ کردیا جائے،یہ ایک جنگی چال ہوتی ہے اس کا ثواب پہلی بار میدانِ جہاد میں آنے کی طرح ہے۔ تیسرے یہ کہ دشمن کا دباؤ بڑھ جانے اور اسلامی لشکر کے شکست کھاجانے کے یقین ہوجانے پر جہاد کے میدان سے واپس ہوکر اپنے مرکز میں پہنچ جانا اس کا بھی وہی ثواب ہے جو جہاد میں جانے کا ثواب تھا۔چوتھے یہ کہ دوسری تیسری بار جہاد میں جانے کا وہ ہی ثواب ہے جو اول بار جہاد میں جانے کا تھا۔خیال رہے کہقفلاورقفولکے معنے ہیں لوٹنا،واپس ہونا،اسی سے ہے قافلہ،سفر میں جانے والی جماعت کو نیک فال کے لیے قافلہ کہاجاتا ہے،یعنی خیریت سے واپس آنے والے مسافروں کی جماعت۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3841