Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3820

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ لَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُجَهِّزْ غَازِيًا أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِيْ أَهْلِهٖ بِخَيْرٍ أَصَابَهُ اللّٰهُ بِقَارِعَةٍ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من لم يغز ولم يجهز غازيا أو يخلف غازيا في أهله بخير أصابه الله بقارعة قبل يوم القيامة". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا جو تو نہ جہاد کرے اور نہ غازی کو سامان دے یا غازی کے گھر میں اس کا بھلائی سے نائب نہ بنے ۱؎اسےتعالٰی قیامت سے پہلے سخت حادثہ پہنچائے گا ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو شخص یا جو لوگ ان تینوں نعمتوں سے محروم رہے نہ جہاد کرے نہ مجاہد کو سامان دے نہ مجاہد کے بیوی،بچوں کی خدمت کرے۔غالبًا روئے سخن ان لوگوں سے ہے جن کے زمانہ میں جہاد ہو اور وہ یہ تینوں کام نہ کرے اور اگر کسی کو جہاد دیکھنا نصیب ہی نہ ہو وہ اس حکم سے علیٰحدہ ہے۔
۲
؎قارعہبنا ہےقرعسے بمعنی کھڑکانا،ٹھوکنا،اب پریشان کن مصیبت کو بھیقارعہکہتے ہیں کہ وہ دل کو کھڑکا دیتی ہے اسی لیے قیامت کوقارعہکہا جاتا ہے"اَلْقَارِعَۃُ مَا الْقَارِعَۃُ"کہ وہ مخلوق کو پریشان کر دے گی جس سے عام لوگوں کے حواس جاتے رہیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3820