Main Icon

باب : رونے اور ڈرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5339

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

عن أبي هريرة قال: قال أبو القاسم -صلى الله عليه وسلم-: "والذي نفسي بيده لو تعلمون ما أعلم لبكيتم كثيرا ولضحكتم قليلا". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا ابو القاسم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں ۱؎تو تم روتے زیادہ اور ہنستے کم ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی قیامت کے خوف و دہشت،دوزخ کے عذاب،اللہ تعالٰی کی پکڑ،عالم غیب کے اسرار جتنے مجھے معلوم ہیں تم کو ان کا لاکھواں حصہ بھی حاصل نہیں،نیز تم کو جس قدر علم ہے وہ ہم سے سن کر ہے،ہم کو علم ہے دیکھ کر اور دیکھے سنے علم میں فرق ہے۔
۲
؎یعنی اگر تم کو وہ چیزیں معلوم ہوجائیں یا تو تم ہنسنا بھول ہی جاؤ یا ہنسو بہت کم اور ڈرو بہت زیادہ،تم پر خوف کا غلبہ ہوجاوے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ساری مخلوق کا علم حضور کے علم کے سامنے ایسا ہے جیسے سمندر کے آگے قطرہ کیونکہلو تعلمونمیں سارے صحابہ سے خطاب ہے۔دوسرے یہ کہ حضور کے قلب پاک کو اللہ تعالٰی نے بڑی برداشت کی طاقت دی ہےکہ اس قدر عذاب وغیرہ کو جانتے بلکہ دیکھتے ہوئے بھی اپنے کو سنبھالے ہوئے ہیں،لوگوں سے تعلقات بھی رکھتے ہیں،سب سے ہنستے بولتے بھی ہیں۔ہم لوگ تو تارک الدنیا ہوجاتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے"کہ اگر ہم قرآن مجید پہاڑ پر اتارتے تو وہ بھی اللہ کی ہیبت سے پھٹ جاتا"جس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کا دل پہاڑ سے زیادہ قوی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5339