باب : رونے اور ڈرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5352
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- لِصَلَاةٍ فَرَأَى النَّاسَ كَأَنَّهُمْ يَكْتَشِرُونَ، قَالَ: "أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ أَكْثَرْتُمْ ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ لَشَغَلَكُمْ عَمَّا أَرَى الْمَوْتُ، فَأَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّات الْمَوْتِ، فَإِنَّهُ لَا يَأْتِ على الْقَبْر يومٌ إِلَّا تَكَلَّمَ فَيَقُولُ: أَنَا بَيْتُ الْغُرْبَةِ، وَأَنَا بَيْتُ الْوحْدَةِ، وَأَنَا بَيْتُ التُّرَابِ، وَأَنَا بَيْتُ الدُّودِ، وَإِذَا دفُنَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ قَالَ لَهُ الْقَبْرُ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا، أَمَا إِنْ كُنْتَ لأَحَبَّ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ، فَإِذْ وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِي بِكَ". قَالَ: "فَيَتَّسِعُ لَهُ مَدَّ بَصَرِهِ وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْفَاجِرُ -أَوِ الْكَافِرُ- قَالَ لَهُ الْقَبْرُ: لَا مَرْحَبًا وَلَا أَهْلًا، أَمَا إِنْ كُنْتَ لأَبْغَضَ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ، فَإِذْ وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِي بِكَ" قَالَ: "فَيَلْتَئِمُ عَلَيْهِ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ"، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- بِأَصَابِعِهِ، فَأَدْخَلَ بَعْضَهَا فِي جَوْفِ بَعْضٍ، قَالَ: "وَيُقَيَّضُ لَهُ سَبْعُونَ تِنِّينًا،لَوْ أَنَّ وَاحِدًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ شَيْئًا مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، فَيَنْهَسْنَهُ وَيَخْدِشْنَهُ حَتَّى يُفْضَى بِهِ إِلَى الْحِسَابِ"، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
وعن أبي سعيد قال: خرج النبي -صلى الله عليه وسلم- لصلاة فرأى الناس كأنهم يكتشرون، قال: "أما إنكم لو أكثرتم ذكر هاذم اللذات لشغلكم عما أرى الموت، فأكثروا ذكر هاذم اللذات الموت، فإنه لا يأت على القبر يوم إلا تكلم فيقول: أنا بيت الغربة، وأنا بيت الوحدة، وأنا بيت التراب، وأنا بيت الدود، وإذا دفن العبد المؤمن قال له القبر: مرحبا وأهلا، أما إن كنت لأحب من يمشي على ظهري إلي، فإذ وليتك اليوم وصرت إلي فسترى صنيعي بك". قال: "فيتسع له مد بصره ويفتح له باب إلى الجنة، وإذا دفن العبد الفاجر -أو الكافر- قال له القبر: لا مرحبا ولا أهلا، أما إن كنت لأبغض من يمشي على ظهري إلي، فإذ وليتك اليوم وصرت إلي فسترى صنيعي بك" قال: "فيلتئم عليه حتى تختلف أضلاعه"، قال: وقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بأصابعه، فأدخل بعضها في جوف بعض، قال: "ويقيض له سبعون تنينا،لو أن واحدا منها نفخ في الأرض ما أنبتت شيئا ما بقيت الدنيا، فينهسنه ويخدشنه حتى يفضى به إلى الحساب"، قال: وقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إنما القبر روضة من رياض الجنة، أو حفرة من حفر النار". رواه الترمذي.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز کے لیے تشریف لائے ۱؎لوگوں کو دیکھا گویا وہ ہنس رہے ہیں ۲؎فرمایا اگر تم لذتیں ختم کرنے والی موت کا ذکر زیادہ کیا کرو تو وہ تم کو اس سے روک دے جو میں دیکھ رہا ہوں ۳؎تو لذتیں ختم کردینے والی موت کا ذکر زیادہ کیا کرو کیونکہ قبر پر کوئی دن نہیں آتا مگر وہ کلام کرتی ہے تو کہتی ہے ۴؎کہ میں مسافری کا گھر ہوں میں تنہائی کا گھر ہوں میں مٹی کا گھر ہوں اور میں کیڑوں کا گھر ہوں ۵؎اور جب بندہ مؤمن دفن کیا جاتا ہے تو اس سے قبر کہتی ہے تو خوب ہی آیا تو اپنے گھر میں آیا ۶؎جو لوگ میری پیٹھ پر چلتے ہیں ان سب میں تو بہت پیارا تھا ۷؎اب جب کہ آج میں تیری والی بنائی گئی ہوں اور میرے پاس لوٹا تو تو دیکھ لے گا میرا برتاوا اپنے ساتھ ۸؎فرمایا پھر قبر تاحد نظر فراخ ہوجاتی ہے اور جب بدکار یا کافر بندہ دفن کیا جاتا ہے تو اس سے قبر کہتی ہے کہ نہ تو خوش آمدید ہے نہ تو گھر میں آیا ۹؎مجھے ان سب ہی سے زیادہ ناپسند تھا جو میری پشت پر چلتے تھے ۱۰؎تو آج جب کہ میں تیری والی بنائی گئی اور تو میری طرف لوٹا تو میرا معاملہ اپنے ساتھ دیکھ لینا ۱۱؎فرماتے ہیں کہ پھر قبر اس سے سکڑ جاتی ہے حتی کہ مردہ کی پسلیاں ادھر کی ادھر ہوجاتی ہیں ۱۲؎فرماتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا تو بعض کو بعض کے اندر داخل کردیا فرماتے ہیں اور اس پر ستر پتلے سانپ مسلط کردیئے جاتے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک زمین میں پھونک مار دے تو رہتی دنیا تک زمین کچھ نہ اگائے۱۳؎وہ اسے کاٹتے اور نوچتے ہیں حتی کہ اسے حساب تک پہنوچایا جاوے فرماتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوذخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔(ترمذی)
شرح حدیث
۱∞؎غالبًا نماز سے مراد نماز جنازہ ہے اگلا مضمون یہ ہی بتارہا ہے۔(مرقات)جنازہ کے ساتھ جاتے ہوئے اور وہاں سے لوٹتے ہوئے ہنسنا ممنوع ہے۔
۲؎یکتشرونکا مادہکشرٌہےبمعنی دانت ظاہر ہونا،ہنسنے کواکتشاراسی لیے کہتے ہیں کہ اس میں دانت ظاہر ہوجاتے ہیں،تبسم کوکشرنہیں کہا جاتا۔
۳؎یوں تو ویسے ہی موت کا ذکر چاہیے خصوصًا میت کے ساتھ جاتے وہاں سے لوٹتے ہوئے زیادہ چاہیے؎کلیاں من میں سوچت ہیں جب کلی کوئی کملاوت ہے جو دن ان پر بیت گیا وہ کل ہم پر بھی آوت ہے
مالی آیا باغ میں اور کلیاں کریں پکار کھلی کھلی سب توڑ لو کل ہم ری ہے بار
۴؎ان جیسی احادیث میں قبر سے مراد بزرخ کا عالم ہے خواہ اس قبر کی شکل میں ہو یا کسی اور شکل میں۔(مرقات)ہم اس کی تحقیق مرات جلد اول میں باب عذاب قبر کی شرح میں کرچکے ہیں۔
۵؎لہذا قبر میں واحد قہار کا کرم ہی کام آوے گا،تم لوگ دنیا میں اپنے کو مسافر سمجھو تمہاری حقیقت مٹھی بھر مٹی ہے، کسی بات پر فخر و شیخی نہ کرو،چونکہ تم کو دنیا سے کھانا ہے لہذا کھانے پینے میں حرام حلال کا خیال رکھو کہ انجام فنا ہے۔قبر عمل کا صندوق ہے،اس قبر میں ہمارے گوشت گل سڑ کر کیڑے بنے گا جو اولًا ہمارے اعضاء کھائیں گے،پھر کیڑے ایک دوسرے کو کھالیں گے،ان حالات سے حضرات انبیاء،شہداء،اولیاء،علماء،عاملین علیحدہ ہیں کیونکہ علماء کی روشنائی شہداء کے خون سے افضل ہے۔(مرقات)جب شہید کا خون پاک ہے تو علماء کی روشنائی کا کیا پوچھنا اس روشنائی سے دین قائم ہے اس لیے یہ حضرات ان احکام سے علیحدہ ہیں۔(شعر)
اندھیرا گھر اکیلی جان دم گھٹتا دل اکتاتا خدا کو یاد کر پیارے وہ ساعت آنے والی ہے
۶؎یعنی اے مردہ میں بظاہر تیری قبر ہوں مگر درحقیقت تیرا گھر ہوں جیسے انسان اپنے گھر میں اجنبی نہیں ہوتا خوش و خرم رہتا ہے تو بھی یہاں اجنبی نہیں۔
۷؎کیونکہ تو زندگی میں مجھ پر اللہ کی عبادت کرتا تھا جس سے میں خوش ہوتی تھی۔معلوم ہوا کہ مؤمن بندہ زمین کو بھی پیارا ہوتاہے۔
۸؎یعنی میری پشت پر رہ کر تو نے مجھے خوش کیا اب جب تو میرے پیٹ میں آیا ہے تو میں تجھے خوش کروں گی۔معلوم ہوا کہ نیک بندے سے ساری روئے زمین خوش رہتی ہے۔
۹؎یعنی اے کافر تو اپنے گھر سے سفر میں آیا ہے کیونکہ کافرکاگھر دنیا ہے اور مؤمن کا گھر آخرت لہذا مؤمن مرکر اپنے گھر میں جاتا ہے کافر مرکر گھر سے جاتا ہے،کافر کی موت چھوٹنے کا ذریعہ ہے مؤمن کی موت ملنے کا ذریعہ،مؤمن ہنستا ہوا مرتا ہے کافر روتا ہوا۔عیار خنداں رو و بجانب یار۔
خیال رہے کہ قرآن و حدیث میں مؤمن و کافر کی جزا و سزا کا ذکر ہوتا ہے مگر گنہگاروں کا ذکر نہیں ہوتا ان کی پردہ پوشی کے لیے اور تاکہ گنہگار امید و ڈر کے درمیان رہیں۔(مرقات)
۱۰؎یعنی تو میری پشت پر تو شرک و کفر و گناہ کرتا تھا جس سے مجھے سخت تکلیف ہوتی تھی۔معلوم ہوا کہ انسان کے کفر و گناہ سے زمین بلکہ ہر چیز کو تکلیف ہوتی ہے۔
۱۱؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ زمین اور فرشتوں کو رب تعالٰی کی طرف سے سزا دینے کا اختیار ملتا ہے وہ بااختیار سزا دیتے ہیں ورنہولیتاورصنیعیکے کچھ معنی نہ ہوں گے۔
۱۲؎خیال رہے کہ بعض گناہوں کی وجہ سے گنہگار مؤمن پر بھی عذاب قبر ہوجاتا ہے مگر وہ عذاب عارضی ہوتا ہے کسی نیک بندہ کے وہاں گزر جانے،زندوں کی دعا کردینے،جمعہ یا بڑے دن کے آجانے سے ختم ہوجاتا ہے مگر کافر کا یہ عذاب دائمی ہوتا ہے،یہاں دائمی عذاب مراد ہے اﷲتعالٰی محفوظ رکھے۔
∞۱۳؎پتلے سانپ میں زہر زیادہ ہوتا ہے موٹے سانپ یعنی اژدھے میں زہر یا تو ہوتا نہیں یا بہت ہی کم ہوتا ہے یعنی وہ سانپ اس قدر زہریلے ہوتے ہیں،ان کی سانس ایسی گرم ہوتی ہے کہ زمین کو لگ جاوے تو زمین قابل کاشت نہ رہے، آج جہاں ایٹم بم پھٹ جاوے وہاں کی زمین پختہ اینٹ کی طرح ہوکر ناقابل کاشت بن جاتی ہے،وہ تو قدرتی زہر ہے اس پرتعجب یا اس کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔اﷲکا عذاب اس کی پکڑ بہت سخت ہے"اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیۡدٌ"یعنی یہ عذاب قبر کافر کو قیامت تک ہوگا،محشر اور دوزخ کا عذاب جو بعد قیامت ہوگا وہ اس کے علاوہ ہے۔اس طرح کہ مؤمن کی قبر میں جنت کی خوشبوئیں وہاں کی ترو تازگی آتی رہتی ہیں،کافر کی قبر میں دوزخ کی گرمی وہاں کی بدبو پہنچتی رہتی ہے۔بزرگوں کی قبر کو اردو میں روضہ کہتے ہیں فلاں بزرگ کا روضہ،یہ لفظ اسی حدیث سے ماخوذ ہے یعنی جنت کا باغ۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5352