Main Icon

باب: کون شخص صدقہ واپس نہ لے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1954

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَبِيعُهُ بِرُخْصٍ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ:"لَا تَشْتَرِهِ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ". وَفِي رِوَايَةٍ: "لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ؛ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن عمر بن الخطاب قال: حملت على فرس في سبيل الله فأضاعه الذي كان عنده، فأردت أن أشتريه، وظننت أنه يبيعه برخص، فسألت النبي -صلی اللہ عليه وسلم- فقال:"لا تشتره ولا تعد في صدقتك وإن أعطاكه بدرهم، فإن العائد في صدقته كالكلب يعود في قيئه". وفي رواية: "لا تعد في صدقتك؛ فإن العائد في صدقته كالعائد في قيئه". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتےہیں کہ میں نے کسی کوکی راہ میں گھوڑا دیا ۱؎جس کے پاس وہ گھوڑا تھا اس نے اسے بربادکردیا ۲؎میں نے چاہا کہ گھوڑا خریدلوں میرا خیال تھا کہ سستا بیچ دے گا۳؎میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ نے فرمایا اسے نہ خریدو اور اپنا صدقہ واپس نہ لو اگرچہ تمہیں ایک درہم میں دے دے ۴؎کیونکہ اپنے صدقہ میں رجوع کرنے والا اس کتے کی طرح ہے جو جو قے کرکے چاٹ لے،ایک اور روایت میں ہے صدقہ واپس نہ لو کہ اپنے صدقہ میں رجوع کرنے والا ایسا ہے جیسے اپنی قے دوبارہ کھالینے والا ہے ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بطور خیرات تاکہ اس پر جہاد وغیرہ کیا کرے،عاریۃً دینا مراد نہیں بلکہ مالک بنادینا مراد ہے۔
۲
؎اس طرح کہ اس کی خدمت کم کی جس سے وہ کمزور و دبلا ہوکر گویا برباد ہی ہوگیا۔
۳
؎یا اس لیے گھوڑا کمزور ہوچکا ہے جس سے اس کی قیمت گھٹ گئی یا اس لیے کہ میں اس کا محسن ہوں مجھے رعایت سے دے گا کیونکہ احسان کا بدلہ احسان ہے دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے۔
۴
؎اس جملہ کی بناء پر بعض علماء فرماتے ہیں کہ اپنے دیئے ہوئے صدقہ کا خریدنا حرام ہے مگر حق یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے اور کراہت کی وجہ بھی یہ ہے کہ اس موقعہ پر فقیر صدقہ دینے والے کی گزشتہ مہربانی کا خیال کرتے ہوئے اسے سستا دے دے گا اور یہ قیمت کی کمی صدقہ کی واپسی ہے مثلًا اگر سو روپیہ کا مال اس نے ۸۰ میں دے دیا تو گویا صدقہ دینے والے نے بیس روپیہ صدقہ کرکے واپس لے لئے،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ملک بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں۔اس کی مثال بالکل یوں سمجھ لوکہ اگر تم نے اپنے پڑوسی فقیر کو صدقہ دیا اس نے اس مال کا کھانا پکاکر تمہاری دعوت کی یہ اگر اس مہربانی کے شکریہ میں ہو تو وہ دعوت ناجائز ہے اور اگر عام دعوت تھی جس میں اتفاقًا تمہیں بھی بلالیا گیا ہو تو کوئی مضائقہ نہیں۔
۵
؎اس تشبیہ سے معلوم ہورہا ہے کہ ممانعت تنزیہی ہے کیونکہ کتے کے اپنی قے کو چاٹ لینے سے اس کا پیٹ تو بھر ہی جائے گا مگر یہ کام گھناؤنا ہے ایسے ہی اپنے صدقہ کو خریدلینے سے ملکیت تو حاصل ہو ہی جائے گی اگرچہ کام بہت برا ہے،یہی تشبیہ ہبہ واپس لینے والے پربھی دی گئی ہے حالانکہ ہبہ کی واپسی بالاتفاق جائز ہے اگرچہ مکروہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1954